ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرہ بلوچ کی قیادت میں ضلع میں طویل عرصے سے بند 72 سرکاری اسکولوں کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے

15

لسبیلہ09جولائی :۔وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان وپارلیمانی سیکرٹری سیاحت وثقافت نوابزادہ زرین خان مگسی کے حلقئہ انتخاب ضلع لسبیلہ میں تعلیمی میدان میں ایک اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے تعلیم دوست وڑن اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرہ بلوچ کی قیادت میں ضلع میں طویل عرصے سے بند 72 سرکاری اسکولوں کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے جس کا مقصد بچوں کو معیاری تعلیم کی سہولیات فراہم کرنا اور تعلیمی نظام کو مضبوط بنانا ہے اس مہم کے نتیجے میں ہزاروں طلبہ و طالبات کو دوبارہ اسکول جانے کا موقع میسر آیا ہے جبکہ مقامی سطح پر روزگار کے درجنوں مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اس کامیاب اقدام میں رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور رکن صوبائی اسمبلی نوابزادہ زرین خان مگسی کا بھرپور تعاون اور معاونت حاصل رہی جنہوں نے نہ صرف اسکولوں کی بحالی میں دلچسپی لی بلکہ مقامی سطح پر مسائل کی نشاندہی انتظامی امور میں معاونت اور وسائل کی فراہمی میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ڈپٹی کمشنر حمیرہ بلوچ کے مطابق اسکولوں کی بحالی اور اساتذہ کی تعیناتی کے عمل میں مکمل شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا گیا ہے مختلف تحصیلوں کا دورہ کر کے مقامی برادری سے مشاورت کی گئی، محکمہ تعلیم کے افسران کے ساتھ مربوط حکمت عملی تیار کی گئی اور اساتذہ کی تعیناتی کے لیے کنٹریکٹ ٹیچرز، SBK اساتذہ، ریٹائرڈ اساتذہ اور دور دراز کے علاقوں میں CSR کے تحت سہولیات حاصل کی گئیں، تاکہ ہر اسکول میں تدریسی عمل بحال ہو اور حاضری کو یقینی بنایا جا سکے اس مہم کے اگلے مرحلے میں اسکولوں کی عمارتوں کی مرمت، فرنیچر کی فراہمی اور دیگر تعلیمی سہولیات کے لیے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کی سطح پر جامع حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے تاکہ یہ کامیابی دیرپا ثابت ہو اور تعلیمی ماحول مزید بہتر بنایا جا سکے یہ پیش رفت نہ صرف ضلع لسبیلہ بلکہ پورے بلوچستان کے لیے ایک روشن مثال ہے، کیونکہ صوبے بھر میں سب سے پہلے تمام بند اسکولوں کو فعال کرنے میں لسبیلہ نے سبقت حاصل کی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس وقت لسبیلہ میں کوئی بھی سرکاری اسکول بند نہیں جو کہ اس علاقے میں تعلیمی کامیابی اور عزم کا عملی ثبوت ہے۔

Comments are closed.