وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایت پر ترقیاتی اسکیموں کی مانیٹرنگ کا فیصلہ

17

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی خصوصی ہدایت پر ترقیاتی اسکیموں کی مانیٹرنگ کا فیصلہ

وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایات پر محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے مالی سال 26-2025 کے لیے ترقیاتی اسکیموں کی منظم۔ موثر نگرانی کے لیے سالانہ شیڈول تشکیل دے دیا۔

محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کی جانب سے تمام ڈویژنل ڈائریکٹرز اور متعلقہ افسران کو مراسلہ جاری

ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات زاہد سلیم کی ہدایت پر چیف اکنامسٹ، جوائنٹ چیف اکنامسٹ، ڈی جی امپلیمنٹیشن اور تمام ڈویژنل ڈائریکٹرز ڈویلپمنٹ کو باضابطہ ہدایات ارسال

جاری اور نئی اسکیموں پر بروقت عملدرآمد اور نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے شیڈول کے مطابق مانیٹرنگ کا جامع نظام لاگو کیا جائے گا۔

ہر ڈویژن میں 25 فیصد ترقیاتی اسکیموں کی فیلڈ وزٹ لازم قرار

ڈویژنل ڈائریکٹرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ ہر سال کم از کم 25 فیصد اسکیموں کا زمینی معائنہ کریں، جس میں تمام شعبوں کی اسکیمیں شامل ہوں۔

مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ونگ ہر ڈویژن کی 8 فیصد اسکیموں کا خود جائزہ لے گا

صوبائی سطح پر قائم ایم اینڈ ای ونگ، اسکیموں کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے 8 فیصد منصوبوں کا الگ سے معائنہ کرے گا۔

ہر ماہ کی 5 تاریخ تک اسکیموں کی تفصیلی انسپیکشن رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت

رپورٹس میں ہر اسکیم کی فزیکل اور فنانشل پیش رفت کو علیحدہ علیحدہ کمپوننٹ کی شکل میں ظاہر کرنا ہوگا۔

ترقیاتی رپورٹس اعلیٰ حکام کو پالیسی فیصلوں میں رہنمائی فراہم کریں گی

انسپیکشن رپورٹس کی بنیاد پر ترقیاتی اجلاسوں میں منصوبوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور فیصلے کیے جائیں گے۔

مالی سال کے اختتام پر ہر ڈویژن سے جامع نگرانی رپورٹ طلب کی جائے گی

رپورٹ میں ہر شعبے کی مجموعی کارکردگی، فنڈز کے استعمال اور اسکیموں کی تکمیل کی صورتحال شامل ہو گی۔

ماہانہ جائزہ اجلاس سیکریٹری امپلیمنٹیشن یا ڈی جی مانیٹرنگ کی زیر صدارت منعقد ہوں گے

ان اجلاسوں میں ہر ڈویژن کے ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ اپنی اسکیموں کی رپورٹ پیش کریں گے

جس کی روشنی میں منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

ترقیاتی اسکیموں کی شفاف، مؤثر اور بروقت تکمیل حکومت بلوچستان کی ترجیح قرار

یہ اقدام صوبے میں بہتر طرز حکمرانی، ترقیاتی عمل کی نگرانی اور عوامی فلاح کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

Comments are closed.