چین کا خلا سے 21 ٹن وزنی بے قابو راکٹ بحر ہند میں گر کر تباہ

چین کا 21 ٹن راکٹ لانگ مارچ جو خلا سے واپس زمین کی طرف آ رہا تھا بے قابو ہو کر مالدیپ کے جزائر میں گر کر سمندر بُرد ہوگیا۔
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق خلا سے تیزی سے زمین کی طرف آنے والے بے قابو راکٹ کا بڑا حصہ دوبارہ فضا میں داخل ہونے کے دوران گر کر تباہ ہوگیا۔ یہ راکٹ دو روز قبل مدار سے 27 ہزار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی جانب آ رہا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بے قابو راکٹ فضا میں داخل ہوجاتا تو کسی آبادی پر گرنے کا قوی امکان تھا تاہم خوش قسمتی سے راکٹ فضا میں داخل نہیں ہوسکا اور چینی حکومت کے دعوے کے مطابق بحر ہند میں گر کر تباہ ہوگیا۔
ادھر امریکا کی اسپیس کمانڈ کا کہنا ہے کہ چینی کے بے قابو راکٹ کے بحیرہ عرب کے اوپر فضا میں دوبارہ داخل ہونے کی تصدیق کرسکتے ہیں تاہم راکٹ کے ملبے کے زمین یا پانی پر گرنے کے شواہد نہیں ہیں۔
دوسری جانب امریکا اور دیگر عالمی قوتوں نے اتنے وزنی راکٹ کے مدار سے گرنے سے بروقت آگاہ نہ کرنے پر چین پر کڑی تنقید کی ہے تاہم چین نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ راکٹ کے خلا سے گرنے سے فوری طور پر آگاہ کردیا تھا۔
چین کا 21 ٹن راکٹ لانگ مارچ جو خلا سے واپس زمین کی طرف آ رہا تھا بے قابو ہو کر مالدیپ کے جزائر میں گر کر سمندر بُرد ہوگیا۔
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق خلا سے تیزی سے زمین کی طرف آنے والے بے قابو راکٹ کا بڑا حصہ دوبارہ فضا میں داخل ہونے کے دوران گر کر تباہ ہوگیا۔ یہ راکٹ دو روز قبل مدار سے 27 ہزار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی جانب آ رہا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بے قابو راکٹ فضا میں داخل ہوجاتا تو کسی آبادی پر گرنے کا قوی امکان تھا تاہم خوش قسمتی سے راکٹ فضا میں داخل نہیں ہوسکا اور چینی حکومت کے دعوے کے مطابق بحر ہند میں گر کر تباہ ہوگیا۔
ادھر امریکا کی اسپیس کمانڈ کا کہنا ہے کہ چینی کے بے قابو راکٹ کے بحیرہ عرب کے اوپر فضا میں دوبارہ داخل ہونے کی تصدیق کرسکتے ہیں تاہم راکٹ کے ملبے کے زمین یا پانی پر گرنے کے شواہد نہیں ہیں۔
دوسری جانب امریکا اور دیگر عالمی قوتوں نے اتنے وزنی راکٹ کے مدار سے گرنے سے بروقت آگاہ نہ کرنے پر چین پر کڑی تنقید کی ہے تاہم چین نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ راکٹ کے خلا سے گرنے سے فوری طور پر آگاہ کردیا تھا۔




