
ویب ڈیسک کے مطابق بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس کے صدر عبدالمالک کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کو احکامات جاری کئے ہیں کہ مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیکر دھرنے کے شرکا سے مذاکرات کئے جائیں۔
آج شام کو ہمارے مذاکراتی کمیٹی سے مذاکرات ہونگے اگر مذاکراتی کمیٹی نے ہمیں اور دھرنے کے شرکا کو مطمئن کیا تو احتجاج ختم کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سینئر وکلا نے ہمارے جائز مطالبات کو دیکھ کر عدالت سے رجوع کیا اور عدالت نے بھی ہمارے مطالبات کو جائز قرار دیا۔ہم بلوچستان بار کونسل اور کوئٹہ بار کونسل کے مشکور ہیں جنہیں نے ہمارے مسائل کو سمجھا اور انہیں حل کرنیکی کوشش کی ہم عدالتی کارروائی سے مطمئن ہیں
شاید پہلی مرتبہ عدالت نے ا نتہائی سنجیدگی سے ملازمین کے مسائل سنے خود چیف جسٹس نے کہا کہ میں ملازمین کا وکیل ہوں۔ عبدالمالک کاکڑ نے کہا کہ وزیر اعلی جام کمال خان کی غیر سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ گزشتہ چند دنوں سے کبھی گوادر کبھی اسلام آباد کے چکر لگا رہے ہیں۔
لیکن انہیں ملازمین کے مسائل کا احساس نہیں ہے۔عبدالمالک کاکڑ کا کہنا تھا کہ مذاکراتی کمیٹی ہم سے گفت وشنید کریگی اور پیر کو عدالت میں رپورٹ جمع کرائی جائیگی۔قوی امید ہے کہ ہمارے جائز مطالبات تسلیم ہونگے۔



