وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی صحت کے شعبے میں بڑی اصلاحات، نئی ادویات فہرست اور سخت نگرانی کے احکامات
عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
لاہور، 9 جنوری: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے نئی اور جامع ادویات فہرست تیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے صحت کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
صحت کے منصوبوں سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی جو ادویات کی تازہ فہرست کو حتمی شکل دے گی۔ انہوں نے کہا کہ 80 ارب روپے سالانہ ادویات پر خرچ ہونے کے باوجود مریضوں کو دواؤں کی عدم دستی ناقابل قبول ہے اور کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
مریم نواز شریف نے سرکاری ہسپتالوں کی جدید خطوط پر اپ گریڈیشن کے لیے چینی ساختہ جدید طبی آلات کے استعمال کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا۔ عوامی شکایات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سیکیورٹی گارڈز، وارڈ بوائز، نرسز اور فارمیسی اسٹاف کے لیے باڈی کیمرے لگانے کی اصولی منظوری دی گئی، جبکہ ہسپتالوں میں روزانہ صبح 9 بجے تک اسٹیـم کلیننگ یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے گئے۔
انہوں نے ڈیوٹی اوقات میں ڈاکٹروں اور نرسز کے موبائل فون استعمال پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا کہ مریض کی دیکھ بھال اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
ہسپتالوں کے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS) پول قائم کرنے اور کارکردگی کو تنخواہوں سے منسلک کرنے کی منظوری دی گئی۔ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کو ہسپتالوں کے سروے اور سروس ڈیلیوری کی نگرانی سونپی گئی۔
اجلاس میں صحت کے شعبے میں فلاحی اقدامات کے اثرات جانچنے کے لیے ڈیٹا اینالیسس سینٹر قائم کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو برسوں میں 2,500 سے زائد ڈاکٹرز بھرتی کیے گئے، جبکہ 5 لاکھ 85 ہزار مریضوں کو دل کی ادویات گھروں تک فراہم کرنے کے لیے رجسٹر کیا گیا۔ ہیپاٹائٹس اور ٹی بی کے 6 ہزار مریضوں کو ادویات کی ہوم ڈیلیوری مکمل کی جا چکی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ عوامی وسائل اور وقت کے ضیاع، نااہلی اور غفلت کو اب ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اور سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی کی براہِ راست نگرانی جاری رہے گی تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
Comments are closed.