لاہورہائیکورٹ کے فل بنچ نے پرویز مشرف کی درخواستیں سماعت کیلئے منظور کر لیں

0 32

لاہور( این این آئی ) لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کی جانب سے دائر تین متفرق درخواستوں پر سماعت کے دوران ریمارکس دئیے ہیں کہ خصوصی عدالت نے کن بنیادوں پر فیصلہ دیا ہم اسے نہیں دیکھ سکتے،ہم صرف یہ دیکھ سکتے ہیں کہ جو کارروائی شروع کی گئی وہ قانون کے مطابق تھی یا نہیں۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں جسٹس محمد امیر بھٹی اور جسٹس چوہدری مسعود جہانگیر پر مشتمل فل بنچ نے سماعت کی ۔پرویز مشرف کی جانب سے اپنے خلاف سنگین غداری کیس کے فیصلے، ٹرائل کورٹ کے قیام اور اس وقت کی حکومت کی جانب سے دائر کردہ شکایت سمیت مختلف اقدامات کو چیلنج کیا گیاہے۔فاضل بنچ نے دوران سماعت پرویز مشرف کے وکلا ء سے پوچھا کہ آپ کا کیس کیا ہے، جس پر بنچ کو بتایا گیا کہ پرویز مشرف کا کیس بالکل سیدھا سا ہے اور وہ یہ کہ خصوصی عدالت کی تشکیل غیر قانونی ہے۔پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کی تشکیل اور انکوائری شروع کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا ہے،اگر کسی عمارت کی بنیاد ہی غلط ہوگی تو وہ گرجائے گی۔اس پر عدالت نے درست معاونت نہ کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ کیا آپ نے اپنا کیس پڑھا ہے ،کیا آپ نے کیس کی تیاری کی ہے ؟۔فل بنچ نے کمرہ عدالت میںموجود بیرسٹر علی ظفر کو مخاطب کیا جس پر انہوں نے کہا کہ میں کیس سننے کے لئے یہاں آیا ہوں جس پر عدالت نے کہا کہ آپ آگے آجائیں اور فاضل بنچ نے ان سے معاونت طلب کی۔فل بنچ کی جانب سے پرویز مشرف کے وکیل سے کہا گیا کہ آپ وقت لے لیں اور تیاری کے ساتھ آئیں، یہ اہم معاملہ ہے آپ اسے آسان نہ لیں۔پرویز مشرف کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف نے ذاتی وجہ پر یہ کیس بنایا،سنگین غداری ایکٹ میں 2010 میں ترمیم کی گئی اور ایمرجنسی کو نافذ کرنے کے عمل کو بھی شامل کیا گیا۔اس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ عدالت نے سوال پوچھے تھے کہ آئین معطلی اور ایمرجنسی لگانا دو مختلف چیزیں ہیں؟ ،جسٹس محمد امیر بھٹی نے استفسار کیا کہ ایمرجنسی کیا صدر نے لگانی ہے یا جنرل نے؟عدالتی استفسار پر جواب دیا گیا لفظ چیف ایگزیکٹو کا استعمال کیا گیا ہے، اسی دوران جسٹس مسعود جہانگیر نے پوچھا کہ کیا 12 اکتوبر اور 3 نومبر کے اقدامات دو مختلف چیزیں نہیں؟۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے پوچھا کہ ٹرائل کورٹ نے کس سیکشن کے تحت پرویز مشرف پر فرد جرم لگائی، اس پر عدالت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نے فرد جرم پڑھ کر سنائی۔اشتیاق اے خان نے کہا کہ فرد جرم میں لکھا گیا کہ ایمرجنسی لگا کر آئین توڑا گیا۔بعد ازاں عدالت نے کچھ دیر کے لیے سماعت ملتوی کردی اور فاضل بنچ کے سربراہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ پرویز مشرف کے وکلا ء فیصلہ کرلیں کہ اس کیس پر کس نے دلائل دینے ہیں۔وقفے کے بعد سماعت کا آغاز ہوا تو جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ شکایت درج ہونے کے بعد انکوائری ہوتی ہے، اس کیس میں انکوائری پہلے ہوئی اور شکایت بعد میں درج ہوئی۔جسٹس امیر بھٹی نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے کابینہ کو انکوائری شروع کرنے کے لیے خط لکھا، کابینہ نے اس کی منظوری دی یا اس کا جواب دیا ہو تو وہ جواب کہاں ہے۔ جس پر وفاقی حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ کابینہ کا کوئی جواب ریکارڈ پر نہیں ۔جسٹس مسعود جہانگیر نے وفاقی حکومت کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں نہ کابینہ کی منظوری ہے نا وفاقی حکومت نے انکوائری کا کہا ہے۔جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف جو شکایت درج کی گئی اس پر شکایت کنندہ کے دستخط نہیں ۔عدالت نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت نے شکایت درج کرنے کے لیے کس کو نامزد کیا؟ اس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے جواب دیا کہ سیکرٹری داخلہ کو نامزد کیا گیا تھا کہ وہ شکایت درج کریں۔اس پر عدالت نے پوچھا کہ کیا جس شخص کے نام سے شکایت ہے، ٹرائل میں اس کا بیان ریکارڈ ہوا، جس پر جواب دیا گیا کہ سیکرٹری داخلہ شاہد خان کو گواہی کے لیے طلب کیا گیا تھا۔فاضل عدالت نے استفسار کیا کہ کیا پرویز مشرف کے معاملے میں انکوائری ہوئی ہے، اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس معاملے پر ایف آئی اے نے انکوائری کی۔جس پر عدالت نے پھر پوچھا کہ ایف آئی اے کی انکوائری رپورٹ میں کیا تھا؟اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس رپورٹ میں پرویز مشرف کے عمل کو غیرقانونی قرار دیا گیا تھا۔ اسی پر عدالت نے پوچھا کہ کیا یہ رپورٹ خصوصی عدالت میں پیش کی گئی جس کے جواب میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ یہ رپورٹ خصوصی عدالت میں پیش کی گئی مگرفرد جرم میں اس کا ذکر نہیں ۔پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر درخواست خصوصی عدالت میں بھیجی گئی جس پر فاضل عدالت نے استفسار کیاکہ اگر 342 کا بیان ریکارڈ نہ کیا گیا ہو تو ملزم کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے؟عدالتی استفسار پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ بیان قلمبند کیے بغیر کارروائی آگے نہیں بڑھائی جاسکتی۔دوران سماعت عدالت کی جانب سے ریمارکس سامنے آئے کہ خصوصی عدالت نے فیصلہ کن بنیادوں پر دیا؟ ہم اسے نہیں دیکھ سکتے، ہم صرف یہ دیکھ سکتے ہیں کہ جو کارروائی شروع کی گئی وہ قانون کے مطابق تھی یا نہیں۔فل بنچ نے استفسار کیا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل کب عمل میں لائی تھی جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ 18 نومبر 2013 کو خصوصی عدالت کی تشکیل ہو گئی تھی۔اس پر بنچ نے استفسار کیا کہ پرویز مشرف کے خلاف شکایت کب درج کی گئی تھی جس پر بتایا گیا کہ 11 دسمبر 2013 کو پرویز مشرف کے خلاف شکایت درج کی گئی تھی۔فل بنچ نے کیس کیس کی مزید سماعت آج ( جمعہ) صبح دس بجے تک کے لئے ملتوی کر دی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.