حکومت بلوچستان اور امن و امان کے قیام کے لئے اقدامات

18

تحریر: عدیل احمد، انفارمیشن آفیسر

امن و امان کسی بھی خطے کی ترقی، خوشحالی اور عوامی اعتماد کی بنیاد ہوتا ہے۔ بلوچستان جیسا صوبہ جہاں قدرتی وسائل کی فراوانی ہے اور جغرافیائی اہمیت مسلم ہے، وہاں امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح رہا ہے۔ حکومت بلوچستان نے حالیہ برسوں میں صوبے میں پائیدار امن اور عوامی اطمینان کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں، جن کے مثبت اثرات نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں صوبائی حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید فعال اور جدید خطوط پر استوار کیا ہے۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کی توسیع، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے جرائم اور دہشت گردی کی کمر توڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ضلعی سطح پر کوآرڈینیشن میکانزم کو مضبوط بنایا گیا ہے تاکہ عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد بڑیا جا سکے امن قائم رکھنے کے لئے حکومت نے قبائلی عمائدین، سماجی رہنماؤں اور مختلف مکاتبِ فکر کو اعتماد میں لیا ہے۔ جرگہ اور مشاورت کے کلچر کو فروغ دے کر عوام کو براہ راست امن کے عمل میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اس حکمت عملی سے کئی پرانے تنازعات حل ہوئے اور باہمی ہم آہنگی میں اضافہ ہواجیسا کہ حکومت بلوچستان اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ پائیدار امن کے لئے معاشی مواقع اور سماجی انصاف ضروری ہیں۔ نوجوانوں کے لئے روزگار کے منصوبے، فنی تربیت اور تعلیمی اداروں کا قیام امن کے فروغ میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ گوادر سمیت مختلف علاقوں میں ترقیاتی منصوبے عوام کو ایک بہتر مستقبل کی نوید دے رہے ہیں۔پولیس اور لیویز فورس کی استعداد کار میں اضافہ حکومت کا ایک اہم قدم ہے۔ جدید تربیت، سہولیات اور آلات کی فراہمی سے یہ فورسز اب زیادہ مؤثر انداز میں عوامی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنا رہی ہیں۔حکومت بلوچستان اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ صوبے میں امن و امان کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ عوامی تعاون، ترقیاتی منصوبے اور قانون کی بالادستی وہ ستون ہیں جن پر ایک پرامن بلوچستان کی بنیاد رکھی جا رہی ہےامن کا قیام محض حکومت کی نہیں بلکہ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت بلوچستان نے امن و امان کے قیام کے لئے جو اقدامات کیے ہیں، ان میں عوامی شمولیت اور تعاون کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ پُرامن بلوچستان ہی خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے۔

Comments are closed.