بلوچستان کودرپیش سکیورٹی،معاشی اور ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مل بیٹھ کر کام کرینگے ،وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سیاسی رہنماوں سے گفتگو
کوئٹہ۔8جنوری :وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دہشت گردی کے خاتمے، بلوچستان کی ترقی اور قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے ،صوبے کو درپیش سکیورٹی، معاشی اور ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبے کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا،افواج پاکستان اور سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کے باعث ملک کا دفاع مضبوط ہوا ہے ، این ایف سی ایوارڈ، بڑے ترقیاتی منصوبوں، دانش سکولز اور زرعی اصلاحات کے ذریعے مل بیٹھ کر اتحاد واتفاق کے ساتھ بلوچستان کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کیا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں سیاسی رہنماو ¿ں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرگورنر بلوچستان شیخ جعفرخان مندوخیل، وزیراعلی میر سرفراز احمد بگٹی، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر ، وفاقی وزرائ احسن اقبال ،عبدالعلیم خان ،وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ ،بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری ،بلوچستان کے صوبائی وزرائ میر سلیم کھوسہ،میرشعیب نوشیروانی، میر ظہور احمد بلیدی، صوبائی مشیر نوابزادہ زرین مگسی،ارکان اسمبلی ،سیاسی جماعتوں کے قائدین رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع، سابق وزیراعلی ڈاکٹر مالک بلوچ اور سینیٹر عبدالقادر موجود تھے۔وزیراعظم سے ملاقات کرنے والوں میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی شامل تھے۔وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی، صوبائی کابینہ کے ارکان اور سیاسی قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے جغرافیائی لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں تمام تر مشکلات اور چیلنجز کے باوجود موجودہ صوبائی حکومت بلوچستان کے عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہے جو خوش آئند امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی طرح بلوچستان بھی دہشت گردی سے شدید متاثر ہوا ہے تاہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے افواج پاکستان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ افواج پاکستان، پولیس، ایف سی، رینجرز، لیویز اور عام شہریوں کی قربانیاں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے خلاف جنگ جاری ہے اور بدقسمتی سے بعض ہمسایہ ممالک کی جانب سے دہشت گردوں کو معاونت دی جا رہی ہے جو انتہائی افسوسناک بات ہے تاہم حکومت اورافواج پاکستان کا عزم پختہ ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہاکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور افواج پاکستان دلجمعی اور پروفیشلزم کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہے ہیں جس طرح 6 مئی 2025ئ کو بھارت کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مو ¿ثر قیادت کی اور دشمن کو سبق سکھایا وہ تاریخ میں یاد رکھاجائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2010ئ میں این ایف سی ایوارڈ کے وقت بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب محمد اسلم رئیسانی تھے، این ایف سی پر ہمارے کئی نشستیں ہوئیں اور اس دور میں نواز شریف ،آصف علی زرداری اور اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور تمام وزرائے اعلیٰ کے باہمی تعاون سے صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا ایک بڑا علاقہ ہے اور اس وقت وزیراعلیٰ بلوچستان کا مطالبہ جائزہ تھا اور زیادہ فاصلے کی وجہ سے وسائل زیادہ استعمال ہونے تھے اور اس سلسلے میں پنجاب نے اپنے حصے میں سے سالانہ 11 ارب روپے بلوچستان کو دیئے جس پر انہیں دلی خوشی ہے اور یہ این ایف سی ایوارڈ گزشتہ 16 برس سے نافذ العمل ہے۔نئے این ایف سی ایوارڈز کیلئے کمیٹیاں کام کررہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب بات بھائیوں اور خاندان کی ہو تو پھر حصوں پر نہیں بلکہ مل بیٹھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں، اسی اتحاد اور اتفاق کے ساتھ وفاق کو مضبوط بنانے کے ساتھ صوبوں کے درمیان فاصلوں کو ختم کرنا ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے ، کوئٹہ کراچی شاہراہ بہترین سڑک ہوگی جہاں ٹریفک حادثات میں کمی واقع ہوگی، یہ بھائی چارے اور قومی یکجہتی کی مثال ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں ایک ہی وقت میں پانچ دانش سکولز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں قلعہ سیف اللہ سے تربت تک غریب اور وسائل سے محروم گھرانوں کے بچے اور بچیاں معیاری تعلیم حاصل کریں گے اور مستقبل میں ملک کا نام روشن کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی اور خوشحالی کے سفر کو مل کر آگے بڑھانا ہے اور مشاورت کے ذریعے تمام چیلنجز کا حل تلاش کیا جائے گا۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ نواز شریف نے ہمیشہ بلوچستان کی ترقی و خوشحالی میں بھرپور دلچسپی لی ہے اور وفاق صوبے کے ساتھ مل کر ترقی وخوشحالی کے سفر کو آگے لے کر جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے انتہائی خوشی ہے کہ زرعی ٹیوب ویلوں کی سولر پر منتقلی خوش اسلوبی کے ساتھ مکمل ہوئی۔انہوں نے کہا کہ سال 2022ئ میں سیلاب سے بلوچستان میں تباہی ہوئی تو وفاقی حکومت نے ورلڈ بینک سے 400 ملین ڈالرز کے فنڈز حاصل کیے جو صوبے کی بحالی پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔
Comments are closed.