
کوئٹہ : وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی احکامات کی روشنی میں گوادر دھرنا مظاہرین کے مطالبات پر عمل درآمد جاری ہے جس کے تحت غیر قانونی فشنگ ٹرالرز پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ماہی گیروں کے مسائل کے حل کے لیے ڈی جی فشیریز کے مرکزی دفتر کو فی الفور کوئٹہ سے گوادر منتقل کر دیا گیا ہے۔ غیر قانونی ٹرالنگ روکنے کے لیے محکمہ فشریز اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کا گشت بڑھا دیا گیا ہے۔ماہی گیروں کو سمندر میں جانے کے لیے ٹوکن سسٹم کا خاتمہ کردیا گیا ہے اب ماہیگیر بغیر کسی اجازت کے سمندر میں آ جا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ گوادر میں تمام غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔ اور گوادر میں حکومتی احکامات پر تمام شراب خانوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کنٹانی کو مکمل طور پر ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا ہے اور ہر قسم کی مداخلت ختم کر دی گئی ہے۔ اوروفاقی حکومت کے تعاون سے پاک ایران بارڈر پر مند کے مقام پر بارڈر مارکیٹ کے قیام کا آغاز ہوگیا ہے۔ اور عنقریب گبد اور مکران ڈویژن کے دیگر علاقوں میں بارڈر مارکیٹ پر کام کا آغاز ہو جائے گا جس سے بارڈر تجارت میں مکمل آزادی حاصل ہوگی۔ وفاقی حکومت نے بھی اس منصوبے کی تکمیل کے لیے 60 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ گوادر یونیورسٹی میں وائس چانسلر کی تعیناتی کر دی گئی۔ اور کلاسز کا آغاز بھی عنقریب کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ گوادر کے تعلیمی اداروں میں نان ٹیچنگ سٹاف کی تعیناتی کے لیے سیلیکشن پراسیس مکمل ہوگیا ہے جس پر جلد آرڈرز جاری ہو جائے گے۔ جعلی ادویات کی روک تھام کے لیے گوادر کے تمام میڈیکل سٹوروں کی انسپکشن کردی گئی ہے۔ اور گوادر شہر کو آفت زدہ قرار دینے،دیگر بقایاجات معاف کرنے کے لیے خصوصی سبسڈی سے متعلق وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کیسکو حکام کو خط لکھ دیا ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر پالیسی جلد واضح ہو جائے گی۔ کوسٹ گارڈ کے پاس پکڑی گئی صرف دو گاڑیاں جن پر ایف آئی آر درج ہے اور ان کے کیس عدالتوں میں زیر التوا ہے اس پر قانونی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ گوادر شہر اور دیگر علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی شروع ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہجیونی میں صاف پانی کا منصوبہ جلد پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔ جبکہ گوادر پورٹ اور سی پیک منصوبوں میں ملازمتوں میں مقامی افراد کو ترجیح دینے کے لیے ڈی سی آفس گوادر میں خصوصی ڈیسک کردیا گیا ہے۔ بیروزگار مقامی افراد سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں تاکہ جاری منصوبوں میں مقامی افراد کو زیادہ سے زیادہ ملازمتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ جبکہ دربیلہ کے تمام متاثرین کو معاوضہ ادا کردیا گیا ہے جب کہ انکو متبادل زمین کی فراہمی کے لیے جگہ کا تعین کیا جا رہا ہے۔ایکسپریس وے متاثرین کو ایک کروڑ 45 لاکھ روپے معاوضہ کی ادائیگی کردی گئی ہے جبکہ باقی ماندہ متاثرین کے ناموں کے اندراج کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن اور دیگر شرکا پر درج مقدمات واپس لینے اور فورتھ شیڈول لسٹ سے نام خارج کرنے سے متعلق معاملہ صوبائی کابینہ کو بھیج دیا گیا ہے۔سمندری طوفان کے متاثرین اور ٹرالرز کے ہاتھوں ماہی گیر وں کے جال وغیرہ کے نقصانات کا فوری ازالہ لینے کے لیے سروے کر دیا گیا ہے۔معاوضوں کی ادائیگی کے لیے معاملہ پی ڈی ایم اے کو بھیج دیا گیا ہے اور فوری ادائیگی یقینی بنانے کے لیے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے، ڈی سی گوادر اور اے سی پسنی کو تبدیل کر دیا گیا ہے اور ان کی جگہ صوبے کے قابل ترین افسران کی تعیناتی کر دی گئی ہے۔ اور وفاقی و صوبائی محکموں میں معذور افراد کے کوٹہ پر عمل درآمد کے لیے تمام صوبائی محکموں کو معذور افراد سمیت دیگر کوٹہ سسٹم پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اشیاء خوردو نوش اور تیل کی آمدورفت کے لیے کنٹانی پوائنٹ مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔




