وفاقی کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی وضاحت

21

کراچی، 7 اکتوبر:
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں منعقدہ وفاقی کابینہ کمیٹی برائے زراعت، موسمیاتی تبدیلی اور سیلابی ایمرجنسیز کے حالیہ اجلاس کے حوالے سے سندھ حکومت کی جانب سے وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔

شرجیل انعام میمن، جو اطلاعات، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ کے قلمدان بھی سنبھالے ہوئے ہیں، نے کہا کہ اجلاس کے شیڈول میں بار بار تبدیلی اور رابطہ کاری کے فقدان کے باعث سندھ حکومت کے نمائندے اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارتِ منصوبہ بندی نے پہلی اطلاع یکم اکتوبر کو جاری کی تھی، جس میں اجلاس 3 اکتوبر بروز جمعہ صبح 10 بجے منعقد کرنے کا کہا گیا تھا۔ اگلے دن، یعنی 2 اکتوبر کو ایک اور مراسلے کے ذریعے وقت تبدیل کر کے شام 5 بجے مقرر کیا گیا، تاہم سندھ حکومت کو یہ دونوں مراسلے نہ ڈاک کے ذریعے موصول ہوئے اور نہ ہی سرکاری واٹس ایپ چینل پر۔

شرجیل انعام میمن کے مطابق دونوں سابقہ نوٹسز 3 اکتوبر کی صبح 9 بج کر 44 منٹ پر واٹس ایپ کے ذریعے موصول ہوئے، جن میں بتایا گیا کہ اجلاس کا نیا وقت شام 6 بجے مقرر کیا گیا ہے، تاہم بعد میں اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پیر، 6 اکتوبر کو صبح 11 بج کر 15 منٹ پر نیا نوٹس موصول ہوا، جس میں بتایا گیا کہ اجلاس اُسی دن دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر ہوگا۔ چونکہ اسی وقت صوبائی کابینہ کا اجلاس بھی پہلے سے طے شدہ تھا، اس لیے سندھ حکومت نے وفاقی حکام کو آگاہ کر دیا کہ وزراء پیشگی مصروفیات کے باعث شرکت نہیں کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ واقعات کی یہ پوری ترتیب واضح کرتی ہے کہ سندھ کے نمائندوں کی غیر حاضری لاپرواہی یا غیر سنجیدگی کے باعث نہیں بلکہ وزارتِ منصوبہ بندی کی آخری لمحات میں کی گئی تبدیلیوں اور کمزور رابطہ کاری کا نتیجہ تھی۔

شرجیل انعام میمن نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے اپیل کی کہ وہ وزارتِ منصوبہ بندی کے اس غیر سنجیدہ طرزِ عمل اور کمزور رابطہ کاری کا نوٹس لیں، کیونکہ یہ امور قومی اہمیت کے حامل ہیں، جن میں سیلابی بحالی، ماحولیاتی تحفظ اور زرعی ترقی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ان تمام شعبوں میں وفاق کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے پُرعزم ہے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئندہ ایسے اجلاسوں کے حوالے سے صوبوں کو بروقت آگاہ کیا جائے تاکہ موثر شرکت ممکن ہو سکے۔

Comments are closed.