
اسلام آباد (این این آئی)سینٹ میں اپوزیشن اراکین نے کہاہے کہ وزیراعظم کہتے ہیں گندم اور چینی مافیا کا پتہ ہے ، یہ بھی بتائیں مافیا کون ہے ۔ سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہاکہ کراؤنا وائرس سے ابتک 564افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں ،پاکستانی قوم کی طرف سے چین کے ساتھ یکجہتی کرنی چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ چین نے ہمیشہ ہربرے وقت میں ہمارا ساتھ دیا ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوررںنے کہاکہ ہم چین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں،وزیراعظم کہتے ہیں کہ گندم اور چینی مافیا کا پتہ ہے،وزیراعظم عمران خان ہر بات سیکنڈ میں بتادیتے ہیں یہ بھی بتائیں مافیا کون ہے؟۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم کوبتاناہوگاتو گندم اور چینی بحران کا مافیا کون ہے۔سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ کرونا وائرس وبا کی صورت اختیار کرگیا ہے ، چین ہمارہ دوست ملک ہے،ہر برے وقت مین اس نے ہمارا ساتھ دیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کے مسئلہ پر چین ہمارے ساتھ کھڑا رہا،ہم چین کیلئے دعا بھی کریں گے۔ انہوںنے کہاکہ چائنہ دنیا کی ابھرتی ہوئی قوت ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایک اور قوت ہے جو خود کو سپر پاور سمجھتا ہے اور اسکی کوشش ہے کہ چائنہ کو نیچے لگاکر رکھا جائے،وہ طاقت یعنی امریکہ پوری دنیا کو اپنے پیچھے لگاکر رکھنا چاہتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے چائنہ کے ان مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ اپ چائنہ میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کی بات کریں۔ انہوررںنے کہاکہ قلات میں سب سے یادہ سردی اور برف باری ہوتی ہے ، قلات میں سردیوں کے دنوں میں گیس کا مسئلہ بہت ذیادہ ہوتا ہے ، لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ن لیگی سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ گندم کا بحران تاریخ کا بڑا بحران تھا، اربوں روپیہ مافیا کی جیبوں میں چلا گیا ہے،ایک وزیر نے کابینہ میں کہا کہ مافیا کے خلاف بات کرنے پر انہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہاکہ یہ خوش آئند بات ہے کہ پاکستان میں کراؤنا وائرس کا کوئی مریض نہیں،ہمیں فی الفور سرجیکل ماس چین بھیجناچاہیے،ملکی تاریخ میں پہلی بار دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک وزیر کے بیان کی تردید اور ہلکی تنقید بھی کی۔ انہوںنے کہاکہ وزیر خارجہ ایوان میں آکر خارجہ پالیسی سے متعلق بریف کریں۔سینیٹر بیرسٹر محمد سیف نے کہاکہ پانچ اگست کے اقدام کے بعد بھارت نے سرکاری نقشہ جاری کیا،بھارت کے سرکاری نقشے میں پاکستانی علاقے بھی شامل کئے گئے ہیں،حکومت بتائے کیااسکے خلاف کوئی اقدام یا شکایت کی؟بعد ازاں سینیٹ اجلاس پیر کی سہ پہر چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا ۔



