وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا ویمن یونیورسٹی کے کانووکیشن میں خطاب، تعلیم اور نوجوانوں کے فروغ پر زور

23

پشاور | عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
پشاور: وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا، سہیل آفریدی، نے شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور کے نویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے صوبے میں تعلیم اور نوجوانوں کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر خیبر پختونخوا کے بچوں کے ہاتھ میں قلم دیکھنا نہیں چاہتے اور اس بار صوبے میں بندوق کی بجائے قلم کی سیاست کو ترجیح دی جائے گی۔
سہیل آفریدی نے بچیوں کی تعلیم کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پرامن تعلیمی ماحول بند کمروں کے فیصلوں سے متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں 22 سے زائد بڑے اور 14 ہزار سے زیادہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، مگر دہشت گردی ختم نہ ہونے پر پالیسی میں تبدیلی اور عوامی اعتماد ضروری ہے۔
وزیرِ اعلیٰ نے ماضی کے آپریشنز کے دوران اسکول، کالجز، ہسپتال، گھربار اور عبادت گاہوں کی تباہی کا حوالہ دیا اور کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو اعلان کردہ معاوضہ آج تک نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے نام پر کسی سیاسی جماعت یا قیادت کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت اور عوام کے ساتھ بیٹھ کر پالیسی بنائی جائے۔
سہیل آفریدی نے یقین دلایا کہ وہ صوبے کی بچیوں کی تعلیم اور روزگار کے لیے ڈٹ کر کھڑے رہیں گے، ڈگری مکمل کرنے والے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، اور نئی یوتھ پالیسی کے تحت باصلاحیت نوجوانوں کو ہر ممکن مدد دی جائے گی۔ وزیرِ اعلیٰ نے اختتام میں کہا: “گھبرانا نہیں ہے، ہم اپنے عوام کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔”

Comments are closed.