نیب آج کے بعد کسی کو فون نہ ٹیکس معاملات میں مداخلت کریگا، نیب بے لگام نہ مدر پدر آزاد ہے ، چئیرمین نیب
اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے سامنے نیب سے متعلق تاجروں کے تحفظات کو بلاجواز قرار دے دیا۔ ٹیکس لگانے اور ٹیکس میں اضافے میں نیب کا کوئی کردار نہیں ہے۔ کسی تاجر کو نیب کی طرف سے کوئی افسر فون نہیں کریگا، ٹیکس سے متعلق تمام فائلیں ایف بی آر کو دے رہے ہیں ٹیکس سے متعلق تمام معاملات ایف بی آر ڈیل کر یگا ۔ نیب نہ بے لگام نہ مدر پدر آزاد ہے نیب کی توجہ کرپشن کے خلا ف رکھنا چاہتے ہیں، تاجر برادری کے مسائل کیلئے چار رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے ۔نیب کی خواہش نہیں کہ سعودی عرب جیسے اختیارات دئیے جائیں۔اتوار کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے چئیر مین نیب نے کہا کہ تاجروں کے وفد نے وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں کیں اور نیب پر تحفظات کا اظہار کیا۔چیئرمین نیب نے دعویٰ کیا کہ ’جن احباب نے اجلاس میں نیب سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا انہوں نے خود نیب کے حق میں تعریفی مراسلے لکھے‘۔انہوں نے بتایا کہ ’نیب کی مدعا سرائی میں لکھے گئے مراسلے کو کسی مناسب وقت پر عیاں کیا جاسکتا ہے تاہم تحریر کنندہ کا نام ظاہر نہیں کیا جائے گا تاکہ کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہو‘۔چیئرمین نیب نے کہا کہ ’اگر تاجر برادری کو نیب سے متعلق تحفظات تھے تو وہ بتائے جاتے، کوئی بھی ادارہ یا شخص عقل کل نہیں اگر کوئی غلطی یا خامی تھی تو اس کا اظہار کیا جاتا‘ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ ٹیکس لگانے اور ٹیکس میں اضافے میں نیب کا کوئی کردار نہیں ہے۔ انہوں نے واضع کیا کہ اسٹاک ایکسچینج اور ڈالر کے اتار چڑھاؤ میں نیب کوئی کردار ادا نہیں کرتا لیکن نیب کاروباری طقے کو مزید فعال کرنے کی متعدد کوشیں کررہا ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ ’یہ میرا مینڈیٹ ہے اور نہ ہی میں سیاستدان ہوں لیکن کچھ تحفظات میں بے بنیاد تھے اور میں ان کی نفی کرتا ہوں اور بلاجواز تنقید کا جواب دینا ضروری ہے‘۔انہوں نے بتایا کہ ’ملکوں کے زوال میں بدعنوانی کا اہم کردار ہوتا ہے تاہم نیب کی ساری توجہ انسداد کرپشن پر مرکوز رہی۔ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا سوچ بھی نہیں سکتے کہ نیب ایسے اقدامات اٹھائے جس سے تاجر برادری کا مورال مجروح ہو تاجر برادری کے مسائل کیلئے چار رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے ۔نیب کے امیج کو بہتر بنانے کی دیانتداری سے کوشش کی، نیب وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات کررہا ہے، ملکی پالیساں بنانے میں نیب کا کوئی کردار نہیں البتہ بیروزگاری کا خاتمہ صرف حکومت کا کام نہیں ہے تاہم کوئی شخص یا ادارہ عقل قل نہیں، ادارے ہوں یا انسان خامیاں سب میں ہوتی ہیں۔چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ پاکستان آزاد ملک ہے آئین اور قانون کی حکمرانی ہے، کسی بھی ملک کے زوال میں بدعنوانی اہم کردار ادا کرتا ہے، قائداعظم نے کہا تھا بدعنوانی اور اقرباپروری پاکستان کے دوبڑے مسئلے ہیں جب کہ معیشت ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے، نجی سیکٹر کردار ادا کرے تو ملکی معیشت بہتر ہوسکتی ہے، معیشت مضبوط ہونے تک ملک اور اس کا دفاع مضبوط نہیں ہوسکتا۔ چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب آج کے بعد ٹیکس کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا، ٹیکس سے متعلق تمام ریفرنس واپس لینے کا فیصلہ کرلیا ہے، بزنس مین کو نیب کی جانب سے نوٹس بھیجا جائے گا، بینک ڈیفالٹ کے معاملات نیب نہیں دیکھے گا، متلعقہ بنک کی جانب سے درخواست کے بغیر نیب بینک ڈیفالٹ کیسز نہیں لے گا، کوئی نیب افسر کسی بھی بزنس مین کو ٹیلی فون کال نہیں کرے گا۔