کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے 6 جنوری 1993 کے شہدائے سوپور کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ “شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔ ہم شہدائے کشمیر کی قربانیوں کو ہرگز ضائع نہیں ہونے دیں گے

22

اسلام آباد ( پریس بیان)
کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے 6 جنوری 1993 کے شہدائے سوپور کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ “شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔ ہم شہدائے کشمیر کی قربانیوں کو ہرگز ضائع نہیں ہونے دیں گے، ہم شہداء کے حقیقی وارث ہیں، اور ان کی قربانیوں کے مشن کو ہر قیمت پر پایۂ تکمیل تک پہنچائیں گے۔”
انہوں نے سوپور میں بھارتی فورسز کی جانب سے کیے گئے بہیمانہ قتلِ عام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری قوم نے آزادی، وقار اور حقِ خودارادیت کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان شاء اللہ یہ قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور کشمیری عوام اپنی جائز جدوجہد میں سرخرو ہوں گے۔
کنونیر غلام محمد صفی نے کہا کہ آج سوپور قتلِ عام کو 32 برس مکمل ہو چکے ہیں، تاہم اس اندوہناک سانحے کے زخم آج بھی کشمیری عوام کے دلوں میں تازہ ہیں۔
6 جنوری 1993 کو بھارتی سکیورٹی فورسز نے سوپور میں نہتے شہریوں کے خلاف اندھا دھند طاقت کا استعمال کرتے ہوئے 60 سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا۔ یہ سانحہ کشمیری تاریخ کے بدترین واقعات میں سے ایک ہے، جس نے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوجیوں نے سوپور بازار میں 500 سے زائد عمارتوں کو آگ لگا دی، راہگیروں پر بلا امتیاز فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 60 سے زائد افراد شہید ہوئے، جبکہ 350 سے زائد دکانیں اور 140 سے زائد گھروں کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایک مسافر بس پر فائرنگ کے بعد اسے آگ لگا دی گئی، جس کے نتیجے میں 25 سے زائد مسافر زندہ جل گئے۔ اسی سانحے کے دوران ایک خاتون سے اس کے 6 ماہ کے شیر خوار بچے کو چھین کر آگ میں پھینک دیا گیا اور ماں کو گولیوں سے شہید کر دیا گیا—یہ واقعات بھارتی فورسز کے غیر انسانی رویّے اور سنگین جنگی جرائم کا کھلا ثبوت ہیں۔
کنوینر حریت کانفرنس نے مزید کہا کہ یو این ایچ سی آر کے مطابق سوپور قتلِ عام کشمیری عوام کے خلاف ریاستی ظلم و ستم کا واضح ثبوت ہے، جہاں نہتے شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔ یہ خونریزی نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تھی بلکہ ریاستی طاقت کے بے جا اور غیر قانونی استعمال کی عکاس بھی ہے۔
آخر میں کنونیر غلام محمد صفی نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ سوپور قتلِ عام سمیت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے تمام جنگی جرائم کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں ، مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں، اور کشمیری عوام کے اقوامِ متحدہ کے تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کے نفاذ کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام کی پرامن اور اصولی جدوجہد ہر حال میں جاری رہے گی، حتیٰ کہ انہیں ان کا جائز حق مل جائے

Comments are closed.