ضلع دادو میں 10سالہ لڑکی گل سما کی مبینہ سنگساری کا معاملہ

0 33

دادو: صوبہ سندھ کے ضلع دادو میں 10سالہ لڑکی گل سما کی مبینہ سنگساری سے متعلق میڈیکل بورڈ کا کہنا ہے کہ ان کی گردن اور چہرہ فریکچر ہوا تھا جبکہ ناک، سر اور دھڑ پر گہری چوٹیں آئیں تھیں۔جوڈیشل مجسٹریٹ اور سول جج جوہی آغا عمران پٹھان کی موجودگی میں ڈاکٹر قربان علی شاہ کی سربراہی میں میڈیکل بورڈ نے کیرتھر پہاڑی علاقے کے قریب واہی پاندھی سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع لالی لک قبرستان میں سما گل کی قبر کشائی کی،سما گل کے والد نے قبر کی نشاندہی کی تھی جنہیں پولیس کی سخت سیکیورٹی میں خاص طور پر قبرستان لایا گیا تھاڈاکٹروں نے قبرستان کے قریب لگائے گئے ٹینٹ میں لاش کا پوسٹ مارٹم کیا اور پولیس کی سخت سیکیورٹی میں کیمیائی جانچ کے لیے اندرونی اعضا کے نمونے لیے تھے۔لیاقت یونیورسٹی ہسپتال سٹی برانچ کے ایڈیشنل میڈیکل سپنرنٹنڈنٹ ڈاکٹر قربان علی شاہ نے صحافیوں کو بتایا کہ کیمیکل ایگزامینیشن کے نتائج آنے کے بعد پوسٹ مارٹم کی رپورٹ جاری کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ٹیم نے مشاہدہ کیا کہ کچھ بھاری چیزیں لگنے سے لڑکی کا چہرہ اور گردن کا حصہ مسخ ہوگیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ’ یہ غلط اندازہ لگایا جارہا ہے کہ اسے قتل کیا گیا جبکہ درحقیقت وہ لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بھاری پتھر لگنے سے جاں بحق ہوئی تھی۔پولیس کے مطابق گل سما کو 21 نومبر کو کارو کاری کیس میں جرگے کے فیصلے کے تحت مبینہ طور پر سنگسار کیا گیا تھا۔ڈاکٹر قربان علی شاہ نے کہا کہ یہ متاثرہ لڑکی کی لاش ہے یا نہیں یہ جاننے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کیا جائے گا۔میڈیکل بورڈ کے دیگر ارکان میں پولیس سرجن حیدرآباد ڈاکٹر بنیدار، ایل یو ایم ایچ ایس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر فرانزکس ڈاکٹر وحید احمد، ڈاکٹر عبدالعزیز شیخ اور ڈاکٹر نصرت ضیا شامل ہیںعلاوہ ازیں متاثرہ لڑکی کے والد علی بخش رند نے میڈیکل بورڈ اور جج کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا اور اپنا موقف دہرایا کہ ان کی بیٹی کی موت حادثاتی تھی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز میڈیکل بورڈ نے پوسٹ پارٹم کے لیے گل سما کی قبر کشائی کی تھی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.