سیرت طیبہ? ہر دور میں رہنمائی کا سرچشمہ ہے، ہم بحیثیت قوم اپنے محبوب نبی کریم ? کی تعلیمات کو اپنے دستور، قانون اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانے کیلئے پرعزم ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف کا جشن ولادت رسول? پر پیغام

13

اسلام آباد۔6ستمبر وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر دور میں رہنمائی کا سرچشمہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے محبوب نبی کریم ? کی تعلیمات کو اپنے دستور، قانون اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ 12 ربیع الاول جشن ولادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ 12 ربیع الاول کے دن آج سے 1500 برس قبل سرزمین مکہ میں نبی آخر الزماں حضرت محمد ? کی ولادت باسعادت نے ظلمتوں کو نور میں بدل دیا اور انسانیت کو عدل، رحمت، مساوات اور وحدت کی نئی راہیں دکھائیں، رواں سال پاکستان سمیت دنیا بھر میں سال رحمت اللعالمین ? کے طور پر منایا جا رہا ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قراردادیں جن کی رو سے نبی مکرم ? کی 1500 ویں یوم ولادت باسعادت کو ملک بھر میں عقیدت واحترام سے منانے کا فیصلہ کیا گیا، اس امر کی گواہ ہیں کہ ہم بحیثیت قوم اپنے محبوب نبی ? کی تعلیمات کو اپنے دستور، قانون اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نبی کریم ? کی حیات طیبہ ایک کامل اور ہمہ جہت اسوہ ہے، حکومت و سیاست ہو، عدل و انصاف، معیشت اور تجارت یا معاشرتی اقدار، سیرت طیبہ ہمارے لیے ہر دور میں رہنمائی کا سرچشمہ ہے، قرآن ہمیں واضح الفاظ میں بتاتا ہے کہ “تمہارے لیے اللہ کے رسول? میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے۔” وزیر اعظم نے کہا کہ آج جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، جدید ٹیکنالوجی سے روابط میں تیزی اور فاصلے سمٹ گئے ہیں، ایسے میں ہمیں اپنی نئی نسل کو خیر، علم اور امن کی طرف راغب کرنے کیلئے انہیں حیات طیبہ ? سے روشناس کرانا ہوگا، نبی اکرم ? کی سیرت ہمیں یہ تعلیم دیتی ہے کہ زبان اور کلمہ خیر و بھلائی کے لیے استعمال ہو، اس لئے ہمیں نسل نو کو جدت کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کے لازوال اصول جو نبی آخرالزماں حضرت محمد ? نے امت کیلئے وضح کئے، پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ان کے محبت، بھائی چارے اور امن کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کی ترغیب دینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے پاکستان کو سیرت طیبہ کی عملی تعبیر بنانا ہے، تعصب، فرقہ واریت، انتہاپسندی اور نفرت کی ہر شکل کو رد کرنا ہے اور بھائی چارے، ایثار اور اتحاد کو فروغ دینا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو درپیش مسائل ،خواہ وہ معاشی ہوں یا سماجی، ان کا پائیدار حل اسی وقت ممکن ہے جب ہم نبی اکرم ? کی تعلیمات کو اپنے قومی کردار کا حصہ بنائیں۔وزیر اعظم نے سب کو دعوت دی کہ آج کے دن اس عہد کی تجدید کریں کہ ہم سب پاکستان کو سیرت النبی ? کے سنہری اصولوں پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہیں، ہماری پالیسیوں کا مقصد مساوات، غربت کا خاتمہ اور علم و تحقیق کا فروغ ہے تاکہ پاکستان حقیقی معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست بن سکے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ سلامت رکھے، اتحاد و یگانگت عطا فرمائے اور ہمیں نبی کریم ? کی محبت و اطاعت میں زندگی گزارنے کی توفیق دے۔

Comments are closed.