وفاقی وزیر احسن اقبال نے وفاقی حکومت کے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے کی نمایاں خصوصیات اور اہم ترقیاتی منصوبوں پر مبنی تفصیلات پیش کر دیں
وفاقی وزیر احسن اقبال نے وفاقی حکومت کے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے کی نمایاں خصوصیات اور اہم ترقیاتی منصوبوں پر مبنی تفصیلات پیش کر دیں
”اُڑان پاکستان“ کے تحت 17 ہزار ارب روپے کا ترقیاتی منصوبہ ملک کو بلندی کی طرف لے جائے گا اور معیشت کو مستحکم کرے گا: احسن اقبال
وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے آئندہ پانچ سال کے لیے ایک جامع اور بلند نظر ترقیاتی منصوبہ ترتیب دیا ہے جس کا کل حجم 17 ہزار ارب روپے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ “یہ پانچ سالہ منصوبہ پاکستان کو معاشی خودانحصاری، سماجی ہم آہنگی اور عالمی مسابقت کے قابل بنانے کے لیے ہمارے قومی عزم کا مظہر ہے۔ اس مجموعی منصوبے میں سے سات ہزار ارب روپے وفاقی حکومت جبکہ دس ہزار ارب روپے صوبے فراہم کریں گے۔”
وہ ماہانہ ترقیاتی جائزہ رپورٹ برائے جون 2025 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جس میں انہوں نے حکومت کے طویل المدتی اہداف اور “اُڑان پاکستان” کے وژن پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر چیف اکانومسٹ ڈاکٹر امتیاز احمد، وائس چانسلر PIDE ڈاکٹر ندیم جاوید، ممبران پلاننگ کمیشن اور قومی ذرائع ابلاغ کے نمائندگان بھی موجود تھے۔
احسن اقبال نے کہا کہ “ہماری کوشش ہے کہ 2047 میں پاکستان جب اپنی آزادی کے سو سال مکمل کرے تو وہ تین کھرب ڈالر کی معیشت بن چکا ہو۔ یہ پانچ سالہ ترقیاتی فریم ورک اسی خواب کی جانب ایک بڑی چھلانگ ہے۔ صرف مالی سال 2025-26 کے لیے ترقیاتی اخراجات کا ہدف 4.2 ہزار ارب روپے ہے، جن میں سے ایک ہزار ارب روپے صرف PSDP کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ “ہماری ترجیح اب اعلیٰ معیار اور نتائج پر مبنی ترقی ہے۔ ہم بڑے انفراسٹرکچر، انسانی ترقی اور ٹیکنالوجی پر مبنی جدت میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ہمارا ماڈل صرف اخراجات کا نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت اور اداروں کو تبدیل کرنے کا ہے۔”
وفاقی وزیر نے بڑے منصوبوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 33 ارب روپے، مہمند ڈیم کے لیے 35 ارب، این-25 کوئٹہ تا کراچی ہائی وے کے لیے 100 ارب، این-55 انڈس ہائی وے کے لیے 25 ارب، اور ایم-6 سکھر تا حیدرآباد موٹروے کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کراچی کے کے- IV واٹر پراجیکٹ کے لیے 10 ارب روپے، دانش اسکولز کے لیے 9 ارب روپے اور وزیر اعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 4.3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ صحت کے شعبے میں ہیپاٹائٹس سی کے علاج کے لیے 1 ارب اور ذیابیطس کے لیے 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی تعداد 1071 سے کم کر کے 800 کر دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان 800 منصوبوں میں وہ منصوبے شامل نہیں جو کہ اپنی تکمیل کے اخری مراحل میں ہیں، احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 367 ایسے منصوبے جن کی کارکردگی کمزور یا آغاز ممکن نہیں تھا، انہیں نکال دیا گیا ہے، ایسے منصوبوں کی کل لاگت 2730 ارب روپے تھی۔ “ہم وسائل کا ضیاع ختم کر کے انہیں ان مقامات پر لگا رہے ہیں جہاں حقیقی تبدیلی لائی جا سکے۔ فی الحال جاری منصوبوں کی لاگت 12.8 ہزار ارب روپے ہے جبکہ 8.5 ہزار ارب روپے کی تھرو فارورڈ واجبات بھی شامل ہیں۔”
احسن اقبال نے اعلان کیا کہ حکومت تین نئے قومی مراکز قائم کر رہی ہے — نینو ٹیکنالوجی، کوانٹم کمپیوٹنگ اور نیو مینوفیکچرنگ — تاکہ پاکستان چوتھے صنعتی انقلاب کے لیے تیار ہو۔ “ہم ’کوانٹم ویلی‘ کی بنیاد رکھ رہے ہیں، جو تحقیق، اختراع اور معاشی ترقی کا قومی مرکز بنے گا۔”
جون 2025 کی ترقیاتی رپورٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے — مئی 2025 میں افراطِ زر 3.5 فیصد رہا جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ 11.8 فیصد تھا۔ “ہماری معاشی حکمت عملی درست سمت میں جا رہی ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ میں 1.9 ارب ڈالر کا سرپلس آیا ہے، جبکہ ترسیلاتِ زر میں 31 فیصد اضافہ ہو کر 31.2 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جو بیرون ملک پاکستانیوں کے اعتماد کا ثبوت ہے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ مالی خسارہ 3.7 فیصد سے کم ہو کر 2.6 فیصد ہو گیا ہے۔ صرف اپریل 2025 میں غیر ضروری منصوبوں کو نکال کر 5.4 ارب روپے کی بچت کی گئی۔ “یہ فرق ہے سیاسی نعروں اور حقیقت پسندانہ عملی اقدامات پر یقین رکھنے والی معاشی ترجیحات کو سمجھنے والی قیادت میں،” انہوں نے کہا۔
احسن اقبال نے بتایا کہ صرف مئی 2025 میں وزارتِ منصوبہ بندی نے 27 منصوبوں کی منظوری دی یا ECNEC کو سفارش کی، جو آئندہ دنوں میں ایک لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم نے اس سال کے PSDP کا 95 فیصد پہلے ہی جاری کر دیا ہے۔ 240 منصوبوں میں سے 210 کا جائزہ مکمل ہو چکا ہے، 18 بڑے منصوبوں کی نگرانی کی گئی ہے اور 4 کا باقاعدہ تجزیہ بھی کیا گیا۔ یہ ہماری نتائج پر مبنی حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے۔”
بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ترقیاتی شراکت داری پر بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے بتایا کہ وزارت نے مئی میں ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB)، ایشیائی انفراسٹرکچر بینک (AIIB) اور ورلڈ بینک کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں تاکہ ترقیاتی اہداف کو موسمیاتی استحکام اور بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔ 16 مئی کو 13 بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی ورکشاپ بھی منعقد ہوئی۔
خیبر پختونخوا کے تحفظات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا: “وفاقی حکومت نے ضم شدہ اضلاع کے لیے فنڈز کی فراہمی کبھی نہیں روکی۔ حال ہی میں 23 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ ایک مشترکہ نگرانی کا نظام بھی کے پی حکومت کے ساتھ طے پا گیا ہے، اور آئندہ ادائیگیاں سہ ماہی بنیاد پر کی جائیں گی۔ ہم تمام صوبوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر کام کرتے ہیں، اور ترقیاتی عمل میں کوئی سیاسی امتیاز نہیں برتا جاتا۔”
وفاقی وزیر نے کہا: “اُڑان پاکستان ہمارا ترقیاتی روڈ میپ ہے۔ یہ پانچ سالہ منصوبہ صرف بجٹ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں سے ہمارا وعدہ ہے۔ یکجہتی، منصوبہ بندی اور محنت سے ہم ایک مضبوط، خوشحال اور جامع پاکستان بنائیں گے۔”
Comments are closed.