وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال کا ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے مکتب کے اجرا پر خصوصی خطاب
اسلام آباد، 05 جنوری 2026:
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے تحت مکتب کے اجرا پر آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کے لیے قومی عزم اور ڈیجیٹل تبدیلی کا واضح پیغام ہے۔
وزیر نے کہا کہ پاکستان کی جامعات اب کاغذی کارروائی سے کارکردگی کے جدید نظام کی طرف بڑھ رہی ہیں اور فیصلے اب اندازوں پر نہیں بلکہ ڈیٹا اور شواہد کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔ انہوں نے اکیسویں صدی میں قوموں کی اصل طاقت مضبوط ادارے اور تربیت یافتہ انسانی وسائل قرار دیے اور عالمی معیار کی جامعات صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ شفاف گورننس اور مؤثر نظم و نسق سے بنتی ہیں۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ قومیں حادثاتی طور پر نہیں بلکہ منصوبہ بندی، نظم و ضبط اور تسلسل سے ترقی کرتی ہیں اور علم، ٹیکنالوجی اور جدت پاکستان کی معاشی مضبوطی کی بنیاد ہیں۔ اڑان پاکستان کے پانچ ستونوں میں جدت اور مسابقت مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وژن 2010 میں انسانی وسائل کی ترقی کو قومی ترجیح دی گئی اور دس ہزار پی ایچ ڈی پروگرام کے ذریعے عالمی معیار کا ٹیلنٹ تیار کیا جا رہا ہے۔ وژن 2025 کے تحت جدید تحقیقی اور انوویشن مراکز قائم کیے گئے ہیں اور اب اڑان پاکستان کے تحت جامعات، تحقیق اور معیشت کو یکجا کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی ٹاپ 10 پریمیم جامعات عالمی مسابقت کے لیے تیار کی جائیں گی اور پریمیم جامعات کے انتخاب اور اصلاحات کے لیے کمیٹی ایک ماہ میں سفارشات دے گی۔ سات نکاتی یونیورسٹی کوالٹی فریم ورک کے ذریعے معیار تعلیم بہتر بنایا جا رہا ہے اور اعلیٰ تعلیم میں سرکاری فنڈنگ کو اب کارکردگی اور نتائج سے مشروط کیا جائے گا۔
پروفیسر احسن اقبال نے اعلان کیا کہ جامعات میں مقابلے اور میرٹ کا نظام نافذ ہوگا، نئے مینوفیکچرنگ سینٹر اور 12 کیٹاپلٹ طرز کے مراکز قائم کیے جائیں گے، اور کوانٹم ویلی پاکستان تحقیق، ٹیکنالوجی اور انوویشن کا قومی مرکز بنے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ جامعات کو ڈگری دینے والے اداروں سے ہائی پرفارمنس نالج آرگنائزیشن بننا ہوگا اور ڈیجیٹل گورننس اعلیٰ تعلیم میں دیرپا اصلاحات کی بنیاد ہے۔
Comments are closed.