اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں جاری، غیر معیاری اشیاء کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی — نومبر کی کارکردگی رپورٹ جاری

31

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ

اسلام آباد — محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں نومبر میں بھی پوری شدت سے جاری رہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر اسلام آباد فوڈ اتھارٹی ڈاکٹر طاہرہ صدیق کی سربراہی میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے ماہِ رپورٹ کے دوران وسیع پیمانے پر چیکنگ اور کارروائیاں سرانجام دیں۔

نومبر کی جاری کردہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق:

1,218 فوڈ پوائنٹس کی چیکنگ کی گئی۔

3.68 ملین روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔

49 فوڈ پوائنٹس کو سیل کیا گیا۔

1,085 نئے لائسنس جاری کیے گئے۔

فوڈ سیفٹی ٹیموں نے کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں غیر معیاری اور ممنوعہ اشیاء تلف کیں جن میں شامل ہیں:

17,170 کلو ڈیری مصنوعات

379 لٹر بیورجز

130 کلو گوشت

114 کلو تاریخِ مصرف سے گزر چکی اشیاء

203 کلو ممنوعہ اجزاء

مزید برآں، مارکیٹ میں موجود مختلف اشیاء کے 15 سیمپل لیبارٹری ٹیسٹنگ کے لیے بھجوائے گئے۔ شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی 43 شکایات کا بروقت ازالہ کرتے ہوئے کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔

ڈاکٹر طاہرہ صدیق کے مطابق 540 فوڈ پوائنٹس کو اصلاحی نوٹس جاری کیے گئے تاکہ صفائی، معیار اور فوڈ ہینڈلنگ کے امور میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر معیاری یا ممنوعہ اشیاء کی فروخت میں ملوث کاروبار کو کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈپٹی ڈائریکٹر نے شہریوں سے اپیل کی کہ خریداری سے قبل اشیاء کی جانچ پڑتال لازمی کریں اور صرف منظور شدہ و معیاری اشیاء کا استعمال یقینی بنائیں۔

تاہم ان تمام اقدامات کے باوجود فی الوقت نتائج تسلی بخش نہیں ہیں، جس کی بڑی وجہ اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کے عملے کی کمی ہے۔ اسی وجہ سے مختلف مارکیٹوں میں اب بھی ملاوٹ شدہ مٹن، گوشت، کریانہ سامان، مصالحہ جات، نمک، پانی، بیورجز، بچوں کے بسکٹس اور یہاں تک کہ آلودہ و گندا پانی استعمال کرکے اگائی گئی سبزیاں فروخت ہوتی نظر آتی ہیں۔

Comments are closed.