وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا ٹمبر مافیا اور غیر قانونی شکار کے خلاف کریک ڈاؤن، جنگلات و جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات

19

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ
پشاور، 4 نومبر 2025

پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبے بھر میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے اور ٹمبر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات قوم کی امانت ہیں اور ان کی لوٹ مار برداشت نہیں کی جائے گی، اور غیر قانونی کٹائی میں ملوث افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ نے محکمہ حکام کو اضافی جنگلات لگانے کے لیے علاقوں کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ ماحولیاتی تبدیلی، جنگلات و جنگلی حیات کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے غیر قانونی شکار اور جنگلی حیات کی تجارت کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ مجرم فوراً گرفتار کر کے سخت قانونی کارروائی کی جائے، اور خیبر پختونخوا حکومت جنگلی حیات کے تحفظ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق یقینی بنائے گی۔

اجلاس میں سخت قانونی اصلاحات اور جرمانوں میں اضافے کے فیصلے کیے گئے تاکہ جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قانونی خامیوں کی وجہ سے قومی وسائل کی لوٹ مار ناقابل برداشت ہے، اور متعلقہ محکمے قانون میں موجود سقم کی نشاندہی کر کے نئی تجاویز پیش کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ درختوں اور جنگلی حیات کے تحفظ کے قوانین کو مزید موثر اور ناقابل فرار بنایا جائے۔

محکمے نے اجلاس کو ترقیاتی منصوبوں، انتظامی امور اور ذیلی محکموں کی جامع بریفنگ دی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ سال 2018 سے اکتوبر 2025 تک مجموعی طور پر 242,782 کیوبک فٹ غیر قانونی لکڑی ضبط کی گئی، 5.6 ارب روپے کا فارسٹ ڈویلپمنٹ فنڈ قائم کیا گیا، اور 2.5 ارب روپے سے زائد آمدنی حاصل ہوئی۔

صوبے میں انڈسٹریل ایمیشن انوینٹری کے لیے 3,217 صنعتی یونٹس، 720 اینٹ کے بھٹوں اور 879 کرش پلانٹس کی GIS میپنگ مکمل کی گئی ہے۔ سموگ سے متعلق بتایا گیا کہ پشاور میں 57 فیصد آلودگی گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں کی وجہ سے ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ جلد گلوف اور کلاؤڈ برسٹ کی پیشنگوئی کے لیے جدید میکینزم انسٹال کیا جائے۔ مزید برآں، مکھنیال فارسٹ اور کاربن کریڈٹ سے متعلق الگ بریفنگ بھی فراہم کی جائے گی۔

Comments are closed.