پر امید ہوں مولانا کامارچ کامیاب ہو گا ، ہر سطح پرمولانا کے ساتھ ہونگے ،بلاول بھٹو
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے کہا ہے کہ کارباری طبقہ آرمی چیف سے ملاقات میں رو رہا ہے،کاروباری طبقہ وزیر اعظم کی ان سے شکایات لگا رہے ہیں جنھوں نے وزیر اعظم بنایا جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا پر امید ہوں مولانا کامارچ کامیاب ہو گا
،پیپلز پارٹی دھرنے کے علاوہ ہر سطح پرمولانا کے ساتھ ہونگے۔ جمعہ کو احتساب عدالت پیشی کے موقع پر آصف زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ کارباری طبقہ آرمی چیف سے ملاقات میں رو رہا ہے،کاروباری طبقہ وزیر اعظم کی ان سے شکایات لگا رہے ہیں جنھوں نے وزیر اعظم بنایا صحافی نے سابق صدر سے سوال کیا کہ چئیرمین نیب کی تعیناتی پر کوء پشیمانی محسوس ہو رہی ہے جس پر آصف زرداری نے کہا شاہد خاقان عباسی چئیرمین نیب کی تقرری پر معافی مانگ چکے ہیں۔صحافی نے سوال کیا کہ سناہے اسٹیبلمشنٹ کے ساتھ بات چل رہی ہے جس پر آصف زرداری نے برجستہ جواب دیا کہ ‘‘معافی وہ مانگیں ‘‘،مولانا میرے دوست ہیں لیکن سیاست چئیرمین بلاول نے کرنی ہے،مولانا کی اپنی جماعت اور سیاست ہماری دوستی رہے گی۔بلاول بھٹو زرداری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پر امید ہوں مولانا کامارچ کامیاب ہو گا ،پیپلز پارٹی دھرنے کے علاوہ ہر سطح پرمولانا کے ساتھ ہونگے، انہوں نے کہا اگر یہ شک ہوا کہ مولانا کسی قوت کے اشارے پر ہیں تو اپنی حمایت واپس لے لیں گے،مولانا کے مارچ کی حمایت کی نوعیت پر فیصلہ پارٹی کرے گی۔ بلاول بھٹو نے کہا نیب کہانیاں سنا رہا ہے، ابھی تک ریفرنس سے کچھ نہیں نکلا،نیب کے ساتھیوں کے پاس ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ہیں،سابق صدر نے بغیر کیس جرم کے گیارہ سال جیل مین گزارے تھے ۔ انہوں نے کہا صدر آصف علی زرداری نے کبھی اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیاہمارے سلیکٹڈ کو یہ مسلہ ہے کہ پی پی پی سامنے کھڑی ہے اس تبدیلی نے ہماری گھر کی خواتین کو بھی بغیر کسی جرم کے جیلوں میں ڈالا ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی 1973 کے آئین اور 18 ویں ترمیم پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، پیپلز پارٹی کو صوبے کے عوام کی خدمت نہیں کرنے دی جارہی۔ حکومت نے نوجوانوں کو بے روزگار کردیا مگر ایک نوکری نہیں دی۔بلاول کا کہنا تھا کہ ہم ان کا ظلم برداشت کرنے کو تیار ہیں مگر سمجھوتہ نہیں کریں گے، ہر ادارے کو اپنا کام کرنا پڑے گا۔ ہر ادارہ اپنا کام کرے گا تو ہم عوام کے مسائل حل کر پائیں گے۔ پارلیمان میں عوامی مسائل پر بات نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کا اعلان کیا ہے، مولانا فضل الرحمن کی کس حد تک مدد کر سکتے ہیں پارٹی اجلاس بلایا ہے۔ اکتوبر کے بعد ہم جنوبی پنجاب میں عوام سے رابطے کریں گے ۔ معاشی بحران کا مقابلہ کرنا ہے تو پیپلز پارٹی ہی کر سکتی ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے مزید کہا ہم پر بھی کارکنوں کا دبا ہے، عوام تنگ آچکے ہیں، پارلیمان فعال نہیں کریں گے تو ہم بھی سڑکوں پر ہوں گے، معاشی چیلنجز کا مقابلہ پیپلزپارٹی ہی کرسکتی ہے، اپوزیشن کے پاس سڑکوں پر نکلنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، قانون کی بالادستی کی بات کرنیوالے نے بنا کسی جرم لوگوں کو جیل میں ڈالا، پیپلزپارٹی دبا کے باوجود اٹھارہویں ترمیم پر سمجھوتہ کیلئے تیار نہیں، عوام کی معاشی مشکلات کی بات کریں گے، کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔(آچ)