اسلام کیخلاف نریندر مودی کے عزائم عالمی امن کیلئے خطرہ ہیں، شبلی فراز
اسلام آباد: وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ مودی کے آمرانہ رویے نے ناصرف لاکھوں بھارتی مسلمانوں کی زندگی داؤ پر لگا دی بلکہ یہ انسانی بحران کا پیش خیمہ بھی ہے جو سرحدوں سے آگے بڑھ سکتا ہے۔
سینیٹر شبلی فراز کا ‘’بھارت میں اسلامو فوبیا’’ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بھارت میں 2014ء میں وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے سے اب تک مسلمانوں کیلئے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مودی کا نظریہ نسلی اور مذہبی منافرت کی مہم کے سوا کچھ نہیں، بھارتی وزیراعظم کے ہندوتوا اور فاشزم پر مبنی نظریات امن کیلئے خطرہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم کو سمجھنا چاہیے کہ بھارت میں اقلیتیں مذہبی منافرت سے تحفظ اور مذہبی آزادی کا مساوی حق رکھتی ہیں۔ نریندر مودی فاشسٹ آر ایس ایس کے تربیت یافتہ تھے جو نسلی برتری کے نظریے پر یقین رکھتے تھے اور انہوں نے مسلمانوں میں خوف پھیلا کر اپنے ووٹ بینک میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا کا تصور ایک مشکل حقیقت رہا ہے تاہم حال ہی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اسے ایک آلہ کار کے طورپر استعمال کر رہا ہے جو کہ ان کے سیاسی تسلسل کا آئینہ دار ہے۔ 2014ء اور 2019ء میں انتخابات میں اس نے کامیابی حاصل کی حالانکہ وہ 2002ء میں گجرات فسادات میں انگنت مسلمانوں کے وحشیانہ قتل کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ اس سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نام نہاد سیکولرریاست سے صرف ہندو ملک بننے کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اسلامو فوبیا کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مسلمانوں کیخلاف امتیازی سلوک کو ہر فورم پر اجاگر کرتا رہے گا۔