
پتراجایا(این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملائیشیا سربراہ کانفرنس کا مقصد دنیا بھر میں اسلام فوبیا کا مشترکہ مقابلہ کرنا تھا،مذہب کو کبھی بھی کسی پر زبردستی نافذ نہیں کیا جا سکتا، ہم پاکستان کو ایک حقیقی فلاحی ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں اور اس کیلئے کئی فلاحی منصوبے شروع کیے ہیں،قائداعظم برصغیر کے عظیم رہنما تھے، پاکستان سے متعلق قائد اعظم کا وژن ہی میرا وژن ہے، قانون کی حکمرانی پاکستان میں بڑا مسئلہ رہا ہے،،انتہا پسند پراپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے، دہشت گردی کااسلام سے کوئی تعلق نہیں،ہمیں اس کے مقابلے کیلئے حکمت عملی بنانا ہوگی۔ منگل کو یہاں ملائیشیا میں ایڈوانس اسلامک انسٹی ٹیوٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سے متعلق قائد اعظم محمد علی جناح کا وژن میرا وژن ہے،قائد اعظم محمد علی جناح برصغیر کے عظیم لیڈر تھے۔ انہوںنے کہاکہ رسول اللہؐ نے مدینہ کی ریاست کی بنیاد رکھی،مدینہ کی ریاست انسانی تاریخ کی پہلی فلاحی ریاست تھی، مدینہ کی ریاست میں انصاف اور مساوات کو بنیادی حیثیت حاصل رہی، پاکستان کا تصور بھی مدینہ کی ریاست کے مطابق ہی تھا، بد قسمتی سے وقت کے ساتھ ہم اپنی درست سمت سے ہٹ گئے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے ہیلتھ انشورنس کا پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت 60 لاکھ خاندانوں کو علاج کی مفت سہولت کے لئے صحت کارڈ دیئے گئے ہیں، غربت کے خاتمے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، غریب ترین افراد کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے اور انہیں مال مویشیوں، پیشہ وارانہ تربیت حاصل کرنے اور دیگر سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ ذہین اور معاشرے کے کمزور افراد کو مفت کھانے اور رہائش کیلئے 200 شیلٹر ہوم تعمیر کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ غریب اور امیر کے درمیان کے فرق کو کم کرنا میرا مقصد ہے، قانون کی حکمرانی ہمارے ملک کا ایک مسئلہ رہا ہے، ہمارے ملک میں بااثر افراد، اجارہ دار گروپ، سیاسی مافیاز ہیں جو خود کو قانون سے بالا تر سمجھتے ہیں اور اپنی مرضی سے قیمتیں بڑھاتے ہیں اور غریب افراد کا استحصال کرتے رہے ہیں، ہمیں ان کا مقابلہ کرنا ہے، یہ پاکستان کے لئے میرا وژن ہے، میں پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست دیکھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ نوجوانوں کو میرٹ پر قرضے اور تعلیمی وظیفے دیئے جا رہے ہیں۔ چین کی مثال ہمارے سامنے ہے جس نے کروڑوں افراد کو غربت سے نکالا، ہمارے ملک کا معاشرے میں امیر طبقہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے اور بد قسمتی سے ہمارے ملک میں مختلف مافیاز وجود میں آچکے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ڈاکٹر مہاتیر محمد ہمارے لئے ایک قابل تقلید شخصیت ہیں، انہوں نے ملائیشیا کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا،مذہب کا تعلق انسان کے دلوں سے ہوتا ہے، ۔ملائیشیا میں ہم نے برداشت کا کلچر پروان چڑھتے ہوئے دیکھا ۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں اسلامو فوبیا پایا جاتاہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا کی ایک وجہ ایران میں انقلاب کے حوالے سے مغرب کی غلط فہمی تھی۔ ملعون سلمان رشدی کی کتاب نے مسلمانوں میں رد عمل پیدا کیا جسے مغرب سمجھ نہیں سکا، مسلم دنیا کی قیادت مغرب کو یہ سمجھانے میں ناکام رہی کہ ناموس رسالتؐ کا معاملہ مسلمانوں کے لئے کس قدر اہمیت کا حامل ہے، ملائیشیا کا معاشرہ تحمل اور برداشت کے اوصاف سے مالا مال ہے، مذہب کو کبھی بھی کسی پر زبردستی کسی پر مسلط نہیں کیا جاسکتا، مدینہ کی ریاست میں بھی مذہبی ہم آہنگی تھی۔وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے دسمبر میں ملائیشیا آنا تھا، ملائیشیا سربراہ کا اجلاس کا مقصد دنیا بھر میں اسلامو فوبیا کا مشترکہ مقابلہ کرنے کے لئے حکمت عملی تیار کرنا تھا، اس سلسلہ میں میری مہاتیر محمد اور ترک صدر طیب اردوان سے بھی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ چند جرائم پیشہ افراد نے نائن الیون حملے کرائے، ان دہشت گرد حملوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں لیکن مسلم قیادت مغربی دنیا کو اس موقع پر بھی سمجھا نہیں سکی، اسلام اور دہشت گردی کو الگ کرنے کا معاملہ اٹھانے کی بجائے اسلامی انتہا پسندی جیسے الفاظ استعمال کرنا شروع کردیئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اسلام اور دہشت گردی کو جدا کر کے دکھانے کی ضرورت تھی۔ مغرب میں اسلام اور اس کی تعلیمات کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے، مغرب میں واضح کرنا چاہیے تھا کہ انتہا پسندی، خود کش دھماکوں کا اسلام میں کوئی تصور نہیں، مسلمان قیادت مغربی معاشرے کو اسلام کا حقیقی تصور دکھانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نوجوان نسل کو اسلامی معاشرے کے حقیقی تصور سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے، یہ بات بتانے کی ضرورت ہے کہ اسلامی نظریہ کیا ہے اور اس حوالے سے کیا غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، مغرب پر واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے پیغمبرؐ سے کس حد تک والہانہ محبت کرتے ہیں، سوشل میڈیا کی وجہ سے اطلاعات اور معلومات تک رسائی میں انقلاب آ چکا ہے، انتہاپسند پراپیگنڈے کے ذریعے نوجوانو ں کو گمراہ اور ان کے ذہنوں کو خراب کرتے ہیں ہمیں اس کے مقابلے کے لئے حکمت عملی بنانا ہوگی۔




