خیبر پختونخوا میں بڑی مثبت تبدیلی نظر آ رہی ہے، عوام نے سچ اور جھوٹ، وفاداری اور بے وفائی میں فرق کرنا شروع کر دیا ہے، وفاقی وزیر امیر مقام

21

بٹ خیلہ۔ 04 جنوری :وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بڑی مثبت تبدیلی نظر آ رہی ہے، عوام نے سچ اور جھوٹ، وفاداری اور بے وفائی میں فرق کرنا شروع کر دیا ہے، خیبر پختونخوا کی حکومت نے 13 سالہ دور میں عوام کو تعلیم، صحت، روزگار اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں کچھ نہیں دیا، سال 2025 میں پاکستان نے کامیابیاں حاصل کی، بھارت کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو طوطہ کان، بٹ خیلہ مالاکنڈ میں نادرا سینٹر کے افتتاح کے موقع پر بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے طوطہ کان میں نادرا سینٹر کا افتتاح کیا۔ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ سیاست بعد میں، لیکن پاکستان سب سے پہلے ہے، چار جنوری کو بٹ خیلہ کے علاقے طوطہ کان میں یہ عظیم الشان عوامی اجتماع اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے سچ اور جھوٹ، وفاداری اور بے وفائی میں فرق کرنا شروع کر دیا ہے، ہزاروں افراد کا جوش و خروش کے ساتھ نکلنا اس تبدیلی پر عوامی مہر ثبت ہونے کے مترادف ہے۔ وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے عوام کا بھرپور استقبال اور محبت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ جذبات صرف اپنی ذات نہیں بلکہ قائد مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف، وزیرِاعظم محمد شہباز شریف اور پوری پارٹی قیادت کی جانب سے قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کا یہ اجتماع ہم 2025 میں پاکستان کو ملنے والی کامیابیوں کے نام کرتے ہیں، چاہے وہ دفاعی میدان ہو، معاشی محاذ ہو یا سفارتی سطح پر پاکستان نے جو پیش رفت کی ہے۔ وفاقی وزیر نے افواجِ پاکستان کی جرات مندانہ قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اور وزیرِاعظم شہباز شریف کے بروقت فیصلوں کی بدولت پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑی طاقت کو شکست دی اور قومی وقار بحال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو چاہیے کہ ان کامیابیوں پر افواجِ پاکستان اور قومی قیادت کو سلام اور داد دے۔انہوں نے نئے سال 2026 کی مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ سال پاکستان کے لیے مزید کامیابیاں لے کر آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایک بڑا مثبت چینج نظر آ رہا ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں، جنہیں ماضی میں گمراہ کر کے ریاست اور اداروں کے خلاف کھڑا کیا گیا تھا۔ انجینئر امیر مقام نے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 13 سالہ دور میں عوام کو تعلیم، صحت، روزگار اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں کچھ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پنجاب میں دانش اسکول بن سکتے ہیں تو خیبر پختونخوا میں کیوں نہیں؟ کیا یہاں کے غیور پختون نوجوانوں میں صلاحیت اور ٹیلنٹ کی کمی ہے؟ انہوں نے کہا کہ صوبے کا وزیرِاعلیٰ لاہور کی گلیوں میں گھومنے کے بجائے اپنے صوبے میں تعلیم، صحت اور کسانوں کےلیے عملی اقدامات کرے۔ وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ ہسپتالوں میں ادویات ناپید ہیں، یونیورسٹیوں میں مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں اور صوبائی وسائل کو عوامی فلاح کے بجائے منفی سیاست کےلیے استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کو ملنے والے این ایف سی وسائل عوام پر خرچ ہونے کے بجائے ملک دشمن بیانیے کو تقویت دینے میں لگائے گئے۔ مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انجینئر امیر مقام نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) ہمیشہ مذاکرات کی حامی رہی ہے، وزیرِاعظم شہباز شریف نے بارہا بڑے دل کا مظاہرہ کیا، مگر مذاکرات اسی صورت ممکن ہیں جب سامنے والا فریق پہلے پاکستان کو تسلیم کرے، نو مئی کے واقعات پر معافی مانگے اور اداروں کے خلاف نفرت انگیز سیاست ترک کرے۔انہوں نے کہا کہ جو قوتیں وہ کام کر رہی ہیں جو دشمن ملک بھی نہ کر سکا، ان کے ساتھ اصولوں کے بغیر بات چیت ممکن نہیں۔انہوں نے چیلنج دیا کہ سرکاری وسائل کے بغیر، حکومت سے نکل کر عوام میں آئیں تو اصل مقبولیت کا اندازہ ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقی جلسے وہ ہوتے ہیں جو عوام اپنی جیب سے، اپنے جذبے سے کرتے ہیں، نہ کہ سرکاری مشینری سے۔انجینئر امیر مقام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مسلم لیگ (ن) کو ایک موقع دیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک سال بھی موقع ملا تو عوام خود دیکھ لیں گے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی قیادت میں ترقی کیسے ہوتی ہے۔ انہوں نے سجاد خان اور دیگر مقامی رہنماو ¿ں کےلیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملاکنڈ کے عوام کو پارلیمنٹ میں مضبوط آواز کی ضرورت ہے جو ان کے مسائل حقیقی معنوں میں اجاگر کرے۔اس موقع پر ضلعی صدر مسلم لیگ (ن) مالاکنڈ سجاد خان، جنرل سکریٹری گل زمان خان، سابق صوبائی وزیر و پارٹی سوات ڈویڑن صدر واجد علی خان، سابق صوبائی وزیر مالاکنڈ ڈویڑن جنرل سکرٹری محمد علی شاہ خان، سینئر نائب صدر فرید خان یوسفزئی ،سینئر نائب صدر ایصال خان، صوبائی جائنٹ سیکرٹری نجیم خان، یوتھ کوآرڈینیٹر ارشد علی خان، سٹی صدر علی محمد خان، عبداللہ خان یوسفزئی ،آصف خان تیران، شفیق خان پراچہ،گل زمین خان صوبائی کوآرڈینیٹر لیبر ونگ، نورکرم میجر، یار محمد،ساب ناظم جاوید الف خان،نذیر حسین، و دیگر پارٹی عہدیداران، رہنما و کارکنان موجود تھے. جلسہ عام میں پی ٹی آئی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہونے والے آیاز خان،آفرین ماچکنئ،احسان اللہ خان، سلطان روم باچا،بخت مولا،انور حیات خان اور گل رحمان، نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قائد محمد نواز شریف، وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور صوبائی صدر مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام پر اعتماد کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی۔

Comments are closed.