تیل پر پابندی سے ہزاروں افراد نان شبینہ کے محتاج ہوگئے ہیں ،میر خورشید احمد جمالدینی

0 34

نوشکی (این این آئی)تیل کے بندش کے خلاف زمباد گاڑیوں کے مزدوروں نے ریلی نکالی و میر گل خان نصیر چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ،تیل کے کاروبار کی بندش کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی گئی ،مظاہرے میں سینکڑوں افراد کی شرکت مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر احتجاجی کلمات درج تھے احتجاجی مظاہرین سے بی این پی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن میر خورشید احمد جمالدینی، بی این پی کے سابق صدر نذیر بلوچ، جے یوآئی ف کے حافظ عبداللہ گورگیج، بی جے یوآئی نظریاتی کے مفتی فدا الرحمن رخشانی، بی این پی کے میر پسند خان ماندائی، تیل یونین کے صدر عبدالقادر بادینی اور ثناء اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیل پر پابندی سے ہزاروں افراد نان شبینہ کے محتاج ہوگئے ہیں نوشکی کے عوام باعزت طریقے سے کاروبار چاہتے ہیں جنہیں نہیں ہونے دیا جارہا ہے بے روزگاری میں اضافے سے امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوگا،زمباد گاڑیوں سے صرف ایک چیک پوسٹ کے ذریعے ٹیکس لیکر قومی خزانے میں جمع ہو نہ کہ کسی کے ذاتی جیب میں جائینااہل حکمران لوگوں کو روزگار کے فراہمی میں ناکام ہوچکے ہیں ریاست لوگوں کو روزگار کے فراہمی کے بجائے روزگار چھیننے پر تلی ہوئی ہیچیک پوسٹوں پر کھلے عام رشوت خوری کا بازار گرم ہے انہوں نے کہاکہ غریب زمباد گاڑی والوں سے بدمعاشی اور گالم گلوچ کرکے غنڈہ ٹیکس لیا جارہا ہے سول دلال اور دلار بااثر افراد و انتظامیہ کے لئے غریبوں کو لوٹ رہے ہیں نوشکی میں انتظامیہ کے اوپر سول انتظامیہ قائم ہے جو جرائم پیشہ افراد پر مشتمل ہیغریبوں کے لئے تیل کی کاروبار پر پابندی ہے مگر شراب ،چوری ،ڈکیتی،رشوت خوری پر پابندی ہونے کے باوجود یہ تمام جرائم ضلع میں جاری ہیں ایف سی کے علاوہ باقی لیویز ،پولیس اور کسٹم کے چیک پوسٹوں سے بھتہ وصول کیا جارہا ہے جو آفیسران کے جیب میں چلا جاتا ہے سرحدی علاقوں میں باڑ لگنے سے مالداری،زراعت،کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہوکر رہ گئی ہے رشوت لینے اور دینے والے دونوں جہنمی ہیں نوشکی میں چوری رہزنی کا راج ہے جبکہ پولیس بھتہ خوری میں مصروف ہے نوشکی میں تحقیقات ہونی چاہیے کہ سول وردی میں گاڑیوں سے بھتہ وصول کرنے والا کون لوگ ہیں اور کس پارٹی سے انکا تعلق ہے،ہم اپنے لوگوں کے ساتھ کاروبار کے بندش کے خلاف بھرپور آواز بلند کرینگے ،تیل کے بندش کے بعد چوری کے وارداتوں کا الزام ان مزدوروں پر لگانا قابل مذمت اقدام ہے، تیل پر پابندی لگنے سے غریبوں کے منہ سے نوالہ چھیننا گیا ہیان غریب مزدوروں کے لئے نوشکی کے سیاسی جماعتیں بھرپور آواز بلند کرتے رہیں گیاور انکے شانہ بشانہ کھڑے ہیں مظاہرین کا جم غفیر صوبائی حکومت اور انتظامیہ کے ناروا سلوک کے خلاف ریفرنڈم ہے پولیٹیکل پارٹیز، عوام اور تاجر برادری کا مشکور ہیں جنہوں نے ہمارے اس احتجاجی ریلی و مظاہرے میں بھر پور شرکت کی احتجاجی مظاہرین نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ وہ وہ فوری طور پر تیل کے کاروبار پر پابندی ختم اور ساتھ ساتھ چیک پوسٹوں سے بھتہ خوری کا خاتمہ کرے بصورت دیگر آئند کے لائحہ عمل میں شٹر ڈاؤن ہڑتال۔ آر سی ڈی شاہراہ بلاک اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں۔ ڈرائیورز اور تیل سے منسلک کاروباری حضرات اپنے بچوں کے ہمراہ گل خان نصیر چوک پر بھوک ہڑتالی کیمپ لگا دیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.