وزیراعظم کی قیادت میں حکومت نجکاری کے اہداف کے حصول کیلئے پرعزم ہے، نجکاری کا مقصد اداروں کی کارکردگی میں بہتری اور عوامی سطح پر بہتر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمدعلی کی پریس کانفرنس

19

اسلام آباد۔3نومبر :وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نجکاری کے اہداف کے حصول کیلئے پرعزم ہے، نجکاری میں عالمی سطح کے مالیاتی ماہرین کی خدمات سے استفادہ کیا جا رہا ہے، نجکاری کا مقصد اداروں کی کارکردگی میں بہتری اور عوامی سطح پر بہتر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، یقینی بنایا جا رہا ہے کہ نجکاری کے بعد کسی قسم کی اجارہ داری قائم نہ ہو سکے، حکومت نجکاری کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنا رہی ہے، نجکاری کمیشن کی استعداد کار کو بڑھایا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور دیگر وفاقی وزراءاور حکومت کی معاشی ٹیم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ مشیر نجکاری نے کہا کہ ملک میں نجکاری کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ گزشتہ 20 سال میں نجکاری نہیں ہورہی تھی، یہ حقیقت ہے کہ اکادکا اداروں کی نجکاری کی گئی ہے، گزشتہ 20 سال میں پرائیویٹائزیشن نہ ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں تاہم ان میں سے دو بڑی وجوہات ہیں کیونکہ قیات کے عزم کے بغیردنیا میں کہیں بھی نجکاری نہیں ہوسکتی اور دوسری عملدرآمد کی استعداد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان دو عوامل کو نکال دیا جائے تو دنیا میں کہیں بھی نجکاری نہیں ہوسکتی، ہمیشہ اعلیٰ قیادت کے عزم کے نتیجہ میں ہی دنیا کے مختلف ممالک میں نجکاری مکمل ہوسکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج وزیراعظم محمد شہباز شریف اس حوالے سے پوری طر ح پرعزم ہیں اور ان کی قیادت میں نجکاری کے حوالے سے بھرپور معاونت حاصل ہے۔ وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ گزشتہ ماہ ہم نے فرسٹ ویمن بنک کی پہلی ٹرانزیکشن کی ہے، ٹرانزیکشن چھوٹی ہو یا بڑی ہو اس میں پورا پراسیس فالو کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں نجکاری کے حوالے سے اعلیٰ قومی قیادت بھرپور عزم رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نجکاری کمیشن میں استعداد نہیں ہوگی تو نجکاری میں مسائل ہوسکتے ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ ہم نے گزشتہ چار ماہ کے دوران نجکاری کمیشن کی استعداد کار میں اضافہ کےلئے بھرپورکام کیا ہے، ان اقدامات کے نتیجہ میں نجکاری کے عمل میں معاونت حاصل ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ نجکاری پروگرام 2024 تا2029 میں 24 ادارے نجکاری کمیشن کو دیئے گئے، ان پر کام کےآغاز پر تین مراحل مختص کئے گئے جن پرعملدرآمد رجحانات، سرمایہ کاروں کی دلچسپی سمیت معیشت اوردیگرعوامل کو پیش نظر رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فرسٹ وویمن بنک 5 ارب روپے کی ایویلیوایشن پر پرائیوٹائزکیا گیا تو تنقید کی گئی کہ بنک 5 ارب روپے میں بیچ دیا گیا۔ اس حوالے سے دو عوامل کو مد نظر رکھنا ہوگا، ہمارا ایک ایس ایم ای بنک ہوتا تھا جس کی نجکاری نہ ہوسکی جس کوبند کرنا پڑا کیونکہ چھوٹا بنک زیادہ مسابقتی نہیں ہوتا، دوسرا امر یہ تھا کہ فرسٹ وویمن بنک کی مجموعی ایکوئیٹی 3 ارب روپے تھی جبکہ سٹیٹ بنک کا کم از کم کیپٹل کا قانون 10 ارب روپے کا ہے۔ اس طرح فرسٹ وویمن بنک کی ایکوئیٹی ویلیو3 ارب روپے تھی جبکہ اس کو ایویلیوایشن5 ارب روپے کا بیچا گیا۔ اس طرح ہم نے تقریباً پریمیئم ٹو ایکوئیٹی تقریباً60فیصد سے زیاد ہ پر فروخت کی۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ بنک گزشتہ31 سال سے نجکاری لسٹ میں شامل ہوتا تھا،اس کی نجکاری نہیں ہورہی تھی،1994 میں یہ بنک پہلی بار نجکاری لسٹ پر آیا، اب2025 میں اس کی نجکاری کا عمل مکمل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرسٹ ویمن بنک یو اے ای کے ایک بہت ہی اہم گروپ کو دیا گیا ہے جو وہاں پر سٹاک ایکسچینج کا ایک اہم رکن ہے، اسی طرح یو اے ای کا ایک بڑا اور اہم گروپ پاکستان میں انٹری کرے گا، نجکاری کے عمل میں صرف اثاثے فروخت کرکے رقم وصول کرنا ہی مقصد نہیں ہوتا بلکہ کوئی بھی اثاثہ درست خریدار کو بیچنا اہم تصور کیا جاتا ہے۔ قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم ٹرانزیکشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی نجکاری کےلئے سرمایہ داروں سے قریبی رابطے میں ہیں جن میں پاکستان کے ٹاپ گروپس بشمول چار کنسورشیم، ایئربلیو، فوجی فاﺅنڈیشن اور بزنس گروپس کے دو کنسورشیم پہلے ہیں، لکی گروپ، حبکو، کوہاٹ سیمنٹ اور گل احمدانرجی وغیرہ شامل ہیں، دوسرے گروپ میں عارف حبیب، لیک ویو سٹی، فاطمہ فرٹیلائزر اور سٹی سکول وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کو سیمنٹ مینوفیکچررز کو بیچنے کی باتیں کی جا رہی ہیں جبکہ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ انہی گروپس نے فاطمہ فرٹیلائزر نجکاری میں لی اور آج یہ ادارہ ملک میں یوریا کی سپلائی میں اہم کردار کا حامل ہے۔ مشیر نجکاری نے مزید کہا کہ عارف حبیب گروپ ملک کا اہم گروپ ہے جو مختلف شعبوں میں کامیابی سے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر کنسورشیم میں ٹیکسٹائل، کار مینوفیکچرنگ، انرجی، کان کنی سمیت مختلف شعبوں میں کام کرنے کا تجربہ ہے اور ان کا کاروباری حجم بھی وسیع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں دلچسپی رکھنے والے تمام گروپ انتہائی تجربہ کار ہیں اور توقع ہے کہ وہ اس کو کامیاب بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انشاءاللہ رواں سال کے اختتام سے قبل پی آئی اے کی نجکاری کا عمل مکمل کر لیا جائے گا، پی آئی اے عالمی سطح پر ایک اہم فضائی کمپنی ہے اور ہماری کوشش ہے کہ اس گروپ کو اہمیت دی جائے جو حکومت کو ادائیگی کے ساتھ ساتھ پی آئی اے میں بھی سرمایہ کاری کرے تاکہ نئے طیارے دستیاب ہوں اور تمام روٹس پر طیارے چلائے جا سکیں۔ مشیر نجکاری محمد علی نے ہاﺅس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے حوالہ سے کہا کہ اس کی نجکاری پر بھی کام جاری ہے، اگر ایویلیوایشن کے مطابق آفر ہوئی تو آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستا ن آج سے دو سال پہلے کے مقابلہ میں بہت ہی مختلف پوزیشن پر ہے، وزیر خزانہ اور حکومت کی اقتصادی ٹیم کی کاوشوں سے آج قومی معیشت کہیں بہتر ہے، دو سال پہلے ڈیفالٹ کی باتیں کی جا رہی تھیں، آج ہمارا یورو بانڈ کسی ڈسکاﺅنٹ پرٹریڈ نہیں کر رہا، حکومت معاشی استحکام کیلئے پرعزم ہے، ہماری کریڈٹ ریٹنگ کہیں بہتر ہوئی ہے جس کی وجہ سے آج ہمارے اثاثوں کی مالیت بھی کہیں بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایچ بی ایف سی میں بہتر آفر نہ ملی تو دوبارہ کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکوز کا شعبہ انتہائی اہم ہے، ہم نے آئیسکو، گیپکو اور فیسکو سے نجکاری کا عمل شروع کیا ہے، یہ تین ڈسکوز پنجاب میں ہیں، ان کی کارکردگی اچھی ہے، اس پر کافی کام کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکوز انتہائی اہم اثاثہ ہیں، ان کی نجکاری میں بجلی کی فراہمی اور درست قیمت کو یقینی بنایا جائے گا، ان کا ری سٹرکچرنگ پلان مرتب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بہت سی پراپرٹیز تھیں جو ان کی ملکیت تھیں لیکن ان کے نام پر نہ تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکوز کے مسائل کے خاتمہ کیلئے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ محمد علی نے کہا کہ نجکاری میں مختلف مسائل ہوتے ہیں جن کے خاتمہ پر کام کر رہے ہیں۔ زرعی ترقیاتی بینک کے حوالہ سے انہوں نے بتایا کہ مالیاتی مشیر کا تقرر ہو چکا۔ انہوں نے روز ویلیٹ کے حوالہ سے بھی آگاہ کیا، حیسکو اور سیپکو کی نجکاری کے بارے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جینکوز، ایل این جی پر چلنے والے پلانٹس اور جامشورو کول فائر پلانٹ سمیت سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے اور آئندہ تین چار ماہ کے دوران مشیران کے تقرر کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایئرپورٹس کی مینجمنٹ کو دنیا بھر کی طرح نجی شعبہ کے حوالہ کرنے کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایئرپورٹس بیچنا نہیں چاہتے لیکن اسلام آباد، لاہور اور کراچی ایئرپورٹس پر طویل مدت کی پالیسی کے تحت کام کر رہے ہیں، اسلام آباد ایئرپورٹ کیلئے یو اے ای سے بات چل رہی ہے، کراچی اور لاہور کےا نتظامات کیلئے بڈنگ میں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹس پر تقریباً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات آج کی اہم پریس کانفرنس کا مقصد تھا، نجکاری کمیشن نجکاری کے عمل میں سٹرٹیجک ریفارمز کو بھی یقینی بنا رہا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ نجکاری کے بعد قومی اثاثوں کی کارکردگی بہتر ہو، عوام کو اچھی سروس ملے، میرٹ پر مبنی پالیسی کے تحت درست نجکاری یقینی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملازمین کے حقوق کے تحفظ کو بھی اہمیت دیتے ہیں تاکہ مسابقتی بنیادوں پر مارکیٹ اکانومی کو فروغ دیا جا سکے اور ملک میں جدت طرازی اور نئی نئی ایجادات کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ مشیر نجکاری محمد علی نے توانائی اور ٹرانسپورٹ کے حوالہ سے کہا کہ یہ دو سیکٹر ایسے ہیں کہ اگر ان میں مارکیٹ بیس مسابقت نہ ہو تو مارکیٹ ترقی نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اثاثوں کی نجکاری سے قبل ری سٹرکچرنگ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ حکومت، صارفین اور سرمایہ کاروں کیلئے کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم سب متفق ہیں کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں ہے تو ہمیں سٹرٹیجک اثاثہ جات کے علاوہ دیگر اثاثوں چاہے وہ منافع میں ہوں یا خسارہ میں ہوں ان کی نجکاری کرنا ہو گی۔

Comments are closed.