ہر سال 10ہزار مائیں قبل از زچگی امراض کے باعث جاں بحق ہوجاتی ہیں،وفاقی وزیرقومی صحت سیدمصطفیٰ کمال

18

 اسلام آباد۔3نومبر :وفاقی وزیرقومی صحت سیدمصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ہر سال 10ہزار مائیں قبل از زچگی امراض کے باعث جاں بحق ہوجاتی ہیں،پاکستان میں غربت بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ ہے، ہیپاٹائٹس میں پاکستان بدقسمتی سے پہلے نمبر پر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیرکو ”فارما کو ویجیلینس“ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہیلتھ کا نظام ابھی آئیڈیل پوزیشن پر نہیں، انسانی جان بے حد اہم ہے، ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے، دنیا میں ہیلتھ کیئر کا نظام تیزی سے بدل چکا ہے، مریض بننے سے روک تھام پر توجہ دینا ہوگی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایکو سسٹم درست سمت میں ڈالنے کی کوشش جاری ہے، دنیا ہسپتال خالی کرنے کی پالیسی کی جانب بڑھ رہی ہے، دنیا لائف اسٹائل میڈیسن کی طرف رواں دواں ہے، ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد کم کرنے کی حکمتِ عملی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مریض ہے تو سمجھنا ہوگا کیوں ہے، ہیلتھ کیئر پر توجہ دینا وقت کی ضرورت ہے، ایکو سسٹم پر غور کریں، کورونا کے دوران سپر پاور ممالک بھی بکھر گئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کو sick-care سے health-care کی طرف لے جانا ہوگا، ٹیکے لگانے کی مزاحمت کم نہیں ہونے دی، مہم جاری ہے، دنیا نے تحقیق مکمل کرلی، کینسر سے کوئی نہیں مرے گامگر پاکستان میں ابھی بھی کینسر موت کا باعث ہے، دنیا میں ہیلتھ پالیسی سے اموات کی شرح کم ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غربت بیماریوں کی بڑی وجہ ہے، ہیپٹائٹس میں پاکستان بدقسمتی سے سرفہرست ہے، ہر سال دس ہزار مائیں قبل از زچگی امراض سے جاں بحق ہورہی ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک بلین ڈالر ویکسین امپورٹ پر خرچ ہوتے ہیں، کسی دوا کا ردِعمل ہو تو اطلاع دیں، اسلام آباد پہلا رابطہ مرکز ہوگا، ہیلتھ انشورنس پر دس ارب روپے خرچ ہوں گے

Comments are closed.