باپ کے اندرونی اختلافات سے اپوزیشن کا کوئی سروکار نہیں ، سرفراز بگٹی

0 34

کوئٹہ :  بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماء سینیٹرمیرسرفراز بگٹی نے کہاہے کہ بی اے پی کے 11ممبران جام کمال سے اختلاف رکھتے ہیں جن کے خاتمے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر ڈائیلاگ کا سلسلہ جاری ہے،بی اے پی پرالزامات لگانے والے بتائیں کہ کیا یہ جمہوریت ہے کہ کسی کی جماعت کے 10سے 11لوگوں کو نکال لائیں۔اختلافات بی اے پی کااندرونی مسئلہ جس سے اپوزیشن کا کوئی سرورکار نہیں ہے،بلوچستان میں انجینئرڈ الیکشن ہوتے تو سرفراز بگٹی پارلیمنٹ کے اندر ہوتا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے نجی چینل کو دئیے گئے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ میرسرفراز بگٹی نے کہاکہ جو اعداد وشمار بتائے جارہے ہیں وہ درست نہیں 42لوگ جام کمال پراعتماد کرچکے ہیں 23اپوزیشن کے ہیں سرداریارمحمدرند نے اختلافات کے باوجود بی اے پی کے ساتھ ہیں انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں 16کی بجائے 14ارکان ہے اور14میں سے 3ہمارے جماعت کے نہیں ہے جبکہ 11ممبران بلوچستان عوامی پارٹی کے ہیں جنہیں تحفظات ہے اپوزیشن کی جانب تحریک عدم اعتماد لایاگیا اسپیکر کی جانب سے ٹیکنیکل پوائنٹس پر واپس کیاگیاہے ڈاکٹرجہانزیب کی جانب سے یہ سوال نہیں کیاگیاکہ یہ تحریک عدم اعتماد کیسے واپس کیاگیاہے۔بی اے پی کے اندر کامعاملہ ہے اپوزیشن کا کوئی سروکار نہیں ہے،حکومت فعال ہے،بی اے پی میں اختلافات کے خاتمے کیلئے مذاکرات جاری ہے روزانہ کی بنیاد پر ڈائیلاگ جاری ہے۔موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی،انہوں نے کہاکہ فنڈز کی کہانی پورے پاکستان کو سنائی جارہی ہے حالانکہ جن کو فنڈز دئیے جارہے ہیں وہ بھی تو بلوچستان ہی کے باسی ہے اور وہ فنڈز خضدار میں ہی خرچ ہورہے ہیں ترقی ہورہی ہے کسی کونقد تو نہیں مل رہا انہوں نے کہاکہ انتہائی دکھ ہے کہ بی اے پی مختلف الخیال لوگوں کی پارٹی ہے یہاں 99فیصد لوگ ایک ساتھ ہیں کنٹرولڈ الیکشن کیسے ہوئے جو 80کی دہانی سے جیتے آئے ہیں بی اے پی پارٹی کیوں تشکیل دی گئی ہے بلوچستان کے مسائل بلوچستان میں بیٹھ کر حل کئے جائیں مختلف خیال لوگوں کی بات بڑی عجیب ہے۔انہوں نے کہاکہ بی اے پی پر الزامات لگتے ہیں تو پھر یہ کہاں سے جمہوریت پسند ہوئے کہ کسی پارٹی کے 10سے11لوگوں کو نکال لائیں اور پھر غیر جمہوری الزام بی اے پی پر لگائیں ترقیاتی فنڈز پر بالکل بات ہونی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرجہانزیب جمالدینی ہمارے بزرگ ہیں ہمارے قوم پرست جماعتوں کی 9سے10سیٹیں رہی ہے نواب اکبر بگٹی کی جماعت بھی 13سیٹوں کے ساتھ آئی ہیں الزام لگانا بڑا آسان ہے انجینئرڈ الیکشن میں سرفراز بگٹی پارلیمنٹ میں ہوتا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.