فیض آباد گوٹھ بھاگیا خان عمرانی پرائمری اسکول ایک بار پھر بحال، مگر بنیادی سہولیات کا شدید فقدان

14

اوستہ محمد۔۔۔
(رپورٹ محمد یونس عمرانی)

فیض آباد کے نواحی علاقے گوٹھ بھاگیا خان عمرانی میں واقع پرائمری اسکول، جو کافی عرصے سے غیر فعال تھا، آخرکار ایک بار پھر بحال کر دیا گیا ہے۔ “ایس بی کے” کے نامزد کردہ ایک پرعزم اور فرض شناس استاد کی تعیناتی کے بعد اسکول میں تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو چکی ہیں، جس سے مقامی آبادی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ استاد نے اپنی محنت اور لگن سے بچوں کو علم کی روشنی سے منور کرنا شروع کیا ہے۔تاہم، اس اسکول کی عمارت نہایت خستہ حالی کا شکار ہے۔ نہ بجلی ہے، نہ پنکھے، نہ پینے کے پانی کا انتظام اور نہ ہی سولر سسٹم۔ گرمیوں میں بچوں کا اسکول میں بیٹھنا محال ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے اکثر والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اس وقت بھی اسکول میں داخل بچوں کی تعداد 80 سے زائد ہے، مگر سہولیات نہ ہونے کے باعث درجنوں بچے تعلیم سے محروم ہیں مقامی لوگوں، والدین اور سماجی حلقوں کی جانب سے صوبائی وزیر برائے تعلیم اور صوبائی وزیر سردارزادہ میر فیصل خان جمالی، ڈی ای او اوستہ محمد، اور ڈی ڈی او اوستہ محمد سے پُر زور اپیل کی گئی ہے کہ اسکول کے لیے نئی عمارت کی منظوری دی جائے، اور فوری طور پر پنکھے، واٹر کولر، سولر سسٹم اور فرنیچر فراہم کیا جائے تاکہ بچوں کو سہولت کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔تعلیم قوموں کی ترقی کی بنیاد ہے، اور اگر نچلی سطح پر تعلیمی ادارے بنیادی سہولیات سے محروم رہیں گے تو معاشرے کی ترقی ممکن نہیں۔ اس لیے فوری اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

Comments are closed.