صوبائی سیکرٹری محکمہ ترقی نسواں سائرہ عطا نے کہا ہے کہ اس طرح کی تربیتی ورکشاپ سے شرکاء کے علم اور استعداد کار میں اضافہ ہوتا ہے

14

کوئٹہ 03 ستمبر2025: صوبائی سیکرٹری محکمہ ترقی نسواں سائرہ عطا نے کہا ہے کہ اس طرح کی تربیتی ورکشاپ سے شرکاء کے علم اور استعداد کار میں اضافہ ہوتا ہے جو خواتین اور بچیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں، خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ خواتین کے لیے اینڈومنٹ فنڈ کا قیام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صنفی بنیادوں پر تشدد کی روک تھام اور متاثرین کو مؤثر معاونت فراہم کرنے کے لیے اداروں کے درمیان قریبی تعاون اور مربوط رابطہ کاری ناگزیر ہے۔ صنفی بنیادوں پر تشدد (GBV) کیس مینجمنٹ انوائرنمنٹ اسٹرینتھننگ کے حوالے سے تین روزہ تربیتی ورکشاپ آج بروز بدھ سرینا ہوٹل کوئٹہ میں اختتام پذیر ہوئی۔ اس تربیتی پروگرام کا انعقاد یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ (UNFPA) اور محکمہ ترقی نسواں حکومت بلوچستان کے اشتراک سے کیا گیا۔ ورکشاپ کی نگرانی پروگرام اینالسٹ یو این ایف پی اے شماعلہ نے کی، جبکہ ٹرینر مدیحہ نے شرکاء کو تفصیلی رہنمائی فراہم کی تربیتی ورکشاپ میں مختلف محکموں کے افسران، انسانی حقوق کمیشن کے نمائندگان اور غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کے نمائندے شریک ہوئے۔ ان میں محکمہ ترقی نسواں، سماجی بہبود، پولیس، پاپولیشن اینڈ ہیلتھ، پی ڈی ایم اے، محکمہ اطلاعات اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران شامل تھے۔ تربیتی سیشنز کے دوران شرکاء کو جی بی وی کیس مینجمنٹ انوائرنمنٹ اسٹرینتھننگ کی گائیڈ لائنز، کیس مینجمنٹ کے مراحل، سازگار ماحول کے قیام کے عملی طریقہ کار اور مختلف عملی سرگرمیوں کے ذریعے آگاہی فراہم کی گئی۔ مزید یہ کہ شرکاء کو اپنے اپنے اداروں کے لیے عملی ایکشن پلان مرتب کرنے کا موقع بھی دیا گیا تاکہ تربیت کے اثرات حقیقی سطح پر ظاہر ہو سکیں۔ تقریب کے دوران سیکرٹری ترقی نسواں نے شرکاء میں اسناد تقسیم کیں، جبکہ یو این ایف پی اے کی نمائندہ نے ورکشاپ کے اغراض و مقاصد اور مستقبل کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ شرکاء نے اس تربیتی پروگرام کو نہایت مفید قرار دیا اور کہا کہ اس سے ان کے عملی کام میں مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں خواتین و بچیوں کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول قائم کرنے کی کوششوں کو مزید تقویت دی جائے گی اور صنفی بنیادوں پر تشدد کے کیسز کو زیادہ مؤثر اور پیشہ ورانہ انداز میں حل کیا جا سکے گا۔

Comments are closed.