امریکی اور نیٹو افواج نے افغانستان میں واقع سب سے بڑی بگرام ایئربیس خالی کرکے افغان وزارت دفاع کے حوالے کر دی

کابل : امریکی اور نیٹو افواج نے افغانستان میں واقع سب سے بڑی بگرام ایئربیس خالی کرکے افغان وزارت دفاع کے حوالے کر دی جس سے غیرملکی افواج کے مکمل انخلا کا اشارہ ملتا ہے ۔اب کابل میں امریکی سفارتخانے کی حفا ظت کیلئے 650کے قریب فوجی رہ گئے ہیں، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بگرام سے امریکی افواج کے انخلا کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ اس سے افغان اپنے مستقبل کا فیصلہ آپس میں خود کر سکیں گے ۔ آج سے 20برس پہلے امریکا اور نیٹو افواج للکارتے ہو ئے افغانستان داخل ہو ئیں اب اتنی ہی خاموشی سے واپس جا رہی ہیں،افغان ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹر درویش رؤفی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز مقامی انتظامیہ کو بتائے بغیر ہی جمعرات کی رات بگرام بیس خالی کر گئیں۔ جمعہ کی صبح درجنوں مقامی افراد نے وہاں لوٹ مار شروع کی بعدازاں افغان فورسز نے بیس کا کنٹرول سنبھالا، افغانستان کی وزارت دفاع کے ترجمان روح اللہ احمدزئی نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ اب اس تنصیب کو افغان نیشنل سکیورٹی فورسز استعمال کریں گی۔نیٹو کی قیادت میں ایک غیر جنگی مشن افغانستان میں قیام کا ارادہ رکھتا ہے جس کا مقصد غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغان فورسز کو تربیت فراہم کرنا ہو گا۔ رائٹرز کے مطابق امریکی فوجی بگرام ایئر بیس میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا ایک ٹکڑا چھوڑ کر وہاں سے نکل گئے ، یہ ٹکڑا امریکی فوجیوں نے 20 سال قبل ایئربیس میں دفن کیا تھا۔ امریکا نے وسط ایشیائی ریاستوں قازقستان، تاجکستان اور ازبکستان سے عارضی طور پر 10 ہزار کے لگ بھگ افغان باشندوں کو پناہ دینے کا کہا ہے جو امریکیوں و دیگر اتحادیوں کیساتھ کام کرتے رہے ہیں۔کابل میں ایک مغربی سفارت کار نے کہا کہ امریکا اور اس کے نیٹو اتحادیوں نے کئی جنگیں جیتی ہیں مگر افغان جنگ ہار گئے ۔یہ فوجی اڈا 1980 کی دہائی میں سوویت افواج نے افغانستان پر حملے کے بعد قائم کیا تھا۔ یہ کابل سے 40 کلومیٹر شمال میں ہے اور اس کا نام ایک قریبی گاؤں کے نام پر ہے ۔امریکا کی قیادت میں اتحادی افواج نے دسمبر 2001 میں یہ اڈا حاصل کیا اور اسے 10 ہزار فوجیوں کی رہائش کے قابل بنایا۔اس کے دو رن وے ہیں جن میں سے نیا رن وے 3.6 کلومیٹر طویل ہے جہاں بڑے کارگو اور بمبار جہاز لینڈ کر سکتے ہیں۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس میں طیاروں کی پارکنگ کیلئے 110 جگہیں ہیں جن کی حفاظت کیلئے بم پروف دیواریں ہیں، 50 بستروں پر مشتمل ہسپتال ہے ، ٹراما مرکز ہے ، تین آپریشن تھیٹر ہیں اور ایک جدید دانتوں کا کلینک بھی ہے ۔اس کے ہینگرز اور عمارتوں میں وہ قید خانے بھی ہیں جہاں تنازع کے عروج کے دنوں میں امریکی فوج کی زیر حراست لوگوں کو رکھا جاتا تھا۔اسے کیوبا میں واقع بدنام زمانہ امریکی فوجی جیل کے نام پر افغانستان کا گوانتانامو کہا جاتا تھا۔بگرام ان سائٹس میں سے ہے جس کا تذکرہ امریکی سینیٹ کی رپورٹ میں کیا گیا تھا جس کے مطابق سی آئی اے ان حراستی مراکز میں مبینہ طور پر القاعدہ سے تعلق رکھنے والے افراد سے تشدد کے ذریعے تفتیش کیا کرتی تھی۔ امریکی تاریخ کی اس طویل ترین جنگ میں اندازے کے مطابق 47 ہزار افغان شہری اور 70 ہزار کے قریب افغان سپاہی ہلاک ہوئے جبکہ دو ہزار 442 امریکی سپاہی اور 3ہزار 800 سے زائد امریکی نجی سکیورٹی ٹھیکیدار بھی مارے گئے ۔دیگر اتحادی ممالک کے ایک ہزار 144 فوجی ہلاک ہوئے ۔براؤن یونیورسٹی میں کوسٹ آف وار پراجیکٹ نے اس جنگ پر امریکی اخراجات کا تخمینہ 20 کھرب 260 ارب ڈالر کے قریب لگایا ہے ۔علاوہ ازیں امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ افغانستان سے فوجیوں کے انخلا کا منصوبہ طے شدہ پلان کے مطابق جاری ہے لیکن فوجیوں کا انخلا آئندہ چند دنوں میں نہیں ہوگا۔اے ایف پی کے مطابق صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکی فوج فضائی نگرانی کی صلاحیت برقرار رکھ رہی ہے تاکہ حکومت کی بوقت ضرورت مدد کی جاسکے تاہم افغانوں کو یہ صلاحیت حاصل کرنی چاہیے کہ وہ خود بھی ایسا کر سکیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فضائیہ کیلئے امارات ، قطر یا بحری بیڑے سے پروازوں کا انتظام کیا جارہا ہے ۔ مزید برآں وائٹ ہاؤس کے پر یس سیکرٹری کا کہنا تھا کہ امریکی افواج کا مکمل انخلا اگست میں ہو گا ۔




