
ژوب( این این آئی) صوبائی وزیرلائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ و ماحولیات مٹھا خان کاکڑ نے کہا ہے کہ صوبے میں صحت تعلیم، پانی بجلی اور زراعت کے اجتماعی منصوبوں کا جال بچھائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام استفادہ کر سکے انہوں نے کہا تعلیم ہر قوم کا زیور ہے تعلیم کے بغیر زندگی ادہوری ہے اس لئے صوبائی حکومت نے تمام تر توجہ تعلیم پر دے رہی ہے ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ و ماحولیات مٹھاخان کاکڑ نے مختلف زیر تعمیر پراجیکٹس کے دورہ کرتے ہوئے کیااس موقع پر صوبائی وزیرنے کہا کہ میں نے ضلع ژوب کے مختلف سکولوں کا دورہ کیا اور مزکورہ علاقوں میں بوائز پرائمری سکولز گرلز پرائمری سکولز کو مڈل کادرجہ دینے کے ساتھ ساتھ کئی سکولوں میں اضافی کمروں اور بلڈنگز بھی بنائے جائیں گے تاکہ سکولوں میں کلاس رومز کی کمی دور ہوجائیں ا نہوں نے مزید کہا کہ حالیہ شدید برفباری اور بارشوں سے کچھ مالی اور جانی نقصانات ہوئے ہیں جس کو ازالہ کرنے کے لئے میں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ضلع ژوب کو متاثرہ اضلاع میں شامل کر نے کو کہا ہے انہوں نے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا وعدہ کیا جو ہم اس کے حد مشکور ہیں صوبائی وزیر نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور برفباری سے طویل خشک سالی کا خاتمہ ہوا ہے جو زراعت کے لئے بہت مفید ہے انہوں نے کہا کہ حکومت زراعت کی ترقی کے لئے ہر ممکن کوشش کر رے کیونکہ ہمارے صوبے میں نصف آبادی سے زیادہ لوگوں کی دارومدار زراعت اور لائیو سٹاک پر ہیں اس لئے زمینداروں کو بلڈوزر کے گھنٹے مہیا کر رہے ہیں تاکہ اس سے زمینداروں کی بنیادی ضروریات پوری ہو جائے صوبائی مشیر نے کہا کہ حکومت عوام کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے صوبائی حکومت صحت اور تعلیم کے شعبوں کی فعالیت کیلئے دن رات کوشاں ہے عوام کو صحت اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے صوبائی حکومت ضلعی سطح پر محکمہ تعلیم اور صحت کے آفیسر ان کو سپورٹ کرینگے ان کو تمام سہولیات فراہم کرینگے تاکہ وہ ان بنیادی شعبوں میں کردار ادا کرنے کیلئے اپنی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لائے صوبائی وزیر مٹھا خان کاکڑ نے کہا کہ وہ عوام کی بلاتفریق اور خلوص نیت سے عوام کی خدمت کیلئے کوشاں ہیں وہ زیلی اور خیلی پر کوئی یقین نہیں رکھتا ہے اور عوام کی خدمت عبادت سمجھتا ہے انہوں نے کہا کہ انتخابات میں عوام سے کیے گئے وعدے پورے کریں گے اور عوام کو مایوس نہیں کرینگے۔



