اوستہ محمد ایرانی پٹرول و ڈیزل کی سمگلنگ کا مرکز بن گیا، پولیس کی سرپرستی میں کاروبار عروج پر
اوستہ محمد اوستہ محمد ایرانی پٹرول اور ڈیزل کے غیرقانونی کاروبار کا مرکز بن گیا ہے، جہاں رات کی تاریکی میں خضدار اور جھل مگسی کے راستے سے ایرانی تیل کی سمگلنگ پولیس و انتظامیہ کی مبینہ سرپرستی میں جاری ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق اوستہ محمد سے ایرانی پٹرول و ڈیزل جعفرآباد، صحبت پور، نصیرآباد اور سندھ کے مختلف علاقوں تک باقاعدہ ترسیل کی جا رہی ہے۔عوامی حلقوں نے آئی جی پولیس بلوچستان اور ڈی آئی جی نصیرآباد ریجن سے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی پٹرول و ڈیزل کی سمگلنگ میں ملوث پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ سمگلنگ کے باوجود فیلنگ اسٹیشن مالکان عوام کو مہنگے داموں پٹرول فروخت کر رہے ہیں، جس سے وہ راتوں رات سرمایہ دار بن گئے ہیں اور ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ذرائع کے مطابق پولیس اہلکار موٹر سائیکل سوار غریب افراد سے تیل ضبط کرکے اپنی کارکردگی ظاہر کرتے ہیں، جبکہ ہزاروں لیٹر ایرانی تیل سے بھری بڑی گاڑیاں روزانہ رات کے وقت اوستہ محمد اور نصیرآباد ڈویژن کے مختلف شہروں میں بلا روک ٹوک سپلائی کی جا رہی ہیں۔ عوامی و سماجی حلقوں نے حکامِ بالا سے اس صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
Comments are closed.