وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس، ضم شدہ اضلاع میں امن و ترقی کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر زور

17

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام کی صدارت میں ضم شدہ اضلاع سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی و صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

ضم شدہ اضلاع کی بہتری کیلئے امن و امان اور ترقی سمیت ہر قسم تجاویز زیر بحث لایا گیا۔

اجلاس میں خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں جرگہ سسٹم کی بحالی اور سول ایڈمنسٹریشن کو مؤثر بنانے کے لیے متبادل تنازعات کے حل کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔

وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ اجلاس میں اصلاحاتی کمیٹی کے ٹی او آرز کو مزید جامع اور مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ ان اضلاع میں پائیدار ترقی اور امن و امان کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ صوبائی حکومت سے ملکر عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرینگے- ہم سب کا ایجنڈا ایک ہے کہ سابق فاٹا کے عوام کو ریلیف فراہم کرنا، امن و امان بحال کرنا، اور تعلیم، صحت اور ترقی کے ہر شعبے میں انہیں وہ سہولیات دینا جو ان کا حق ہے۔”

شرکاء کا کہنا تھا کہ سابق فاٹا کے عوام نے طویل عرصہ تک قربانیاں دی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ انہیں ان کا جائز مقام دیا جائے۔ ہم سب مل کر اس مشن کو کامیاب بنائیں گے۔

اجلاس کو وفاقی سیکریٹری ظفر حسن نے کمیٹی کے ایجنڈے پر تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس میں کمیٹی کے ارکان، جن میں سابق وزراء ڈاکٹر جی جی جمال، حمیداللہ جان آفریدی، سابق چیف سیکریٹری شکیل درانی، سابق رکن صوبائی اسمبلی محمد علی شاہ بادشاہ، مولانا مِصباح اللہ داوڑ، رکن اسمبلی ریاض شاہین (ضلع کرم) اور دیگر نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں سیکریٹری کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران ظفر حسن، سیکریٹری قانون و آئی سی ٹی (وزارت داخلہ) نیاز محمد، سیکریٹری اقتصادی امور ڈویژن ڈاکٹر کاظم نیاز، وزارت منصوبہ بندی و ترقی کے عدنان رفیق اور دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔

اسپیشل سیکرٹری داخلہ خیبر پختونخوا سمرین فاطمہ، انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا پولیس اور خیبر پختونخوا حکومت کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

Comments are closed.