
ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی طرف سے اعتراض کے بعد گزشتہ روز پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے قومی مفاد کی خاطر اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کی جس کے بعد اپوزیشن ان کی غیر موجودگی پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی اجلاس میں شرکت پر اپوزیشن کی جانب سے اعتراض کیا گیا، عمران خان اجلاس میں شرکت کرنا چاہتے تھے، اپوزیشن نے شرکت سے متعلق سپیکر کو اپنے اعتراض سے آگاہ کیا۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اگر اجلاس میں شریک ہوئے تو ہم اجلاس سے واک آوٹ کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیراعظم عمران خان کو صورتحال سے آگاہ کیا،جس کے بعد وزیراعظم نے قومی مفاد کی خاطر اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں پارلیمانی رہنماوں کو مسئلہ کشمیر، افغانستان کی صورتحال، ملک کو درپیش اندرونی چیلنجز سمیت دیگر معاملات پر بریفنگ دی گئی تھی۔
پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کی جانب سے ملک کی سیاسی و پارلیمانی قیادت، رہنماﺅں اور اراکین کو اہم خارجہ امور، داخلی سلامتی، اندرونی چیلنجز، خطے میں وقوع پذیر تبدیلیوں خصوصاً تنازع کشمیر اور افغانستان کی صورت حال پر جامع بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین، وزیر ریلوے اعظم خان سواتی، وزیر ہاوسنگ اینڈ ورکس چوہدری طارق بشیر چیمہ، وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، سینیٹ میں قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی، پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جمعیت علمائے اسلام کے پارلیمانی لیڈر اسد محمود، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، رکن قومی اسمبلی خالد حسین مگسی، بی این پی کے سربراہ اختر مینگل، غوث بخش خان مہر، عامر حیدر اعظم خان، نوابزادہ شاہ زین بگٹی، اراکین سینیٹ شیری رحمٰن، اعظم نذیر تارڑ، انوار الحق کاکڑ، مولانا عبدالغفور حیدری، فیصل سبزواری، محمد طاہر بزنجو، ہدایت اللہ خان، محمد شفیق ترین، کامل علی آغا، مشتاق احمد، مظفر حسین شاہ، محمد قاسم اور دلاور خان شریک ہوئے۔
اجلاس میں چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی محمد قاسم خان سوری، وزیر دفاع پرویز خٹک، وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اسد عمر، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ملک محمد عامر ڈوگر، اراکین قومی اسمبلی شاہد خاقان عباسی، خواجہ محمد آصف، رانا تنویر حسین، احسن اقبال، راجا پرویز اشرف اور حنا ربانی کھر کو بھی خصوصی طور پر دعوت دی گئی تھی۔
اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی شریک ہیں اور عسکری قیادت چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل جنرل فیض حمید، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار سمیت قومی سلامتی کے دیگر اداروں کے سربراہان بھی اجلاس میں خصوصی طور پر شریک ہوئے۔
شرکاکو بتایا گیا کہ پاکستان نے افغان امن عمل میں اخلاص کے ساتھ نہایت مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا، پاکستان کی بھرپور کاوشوں کی بدولت نہ صرف مختلف افغان دھڑوں اور متحارب گروپوں کے مابین مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی بلکہ امریکا اور طالبان کے درمیان بھی بامعنی گفت و شنید کا آغاز ہوا۔ ہم اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ افغانستان میں پائیدار امن و استحکام دراصل جنوبی ایشیا میں استحکام کا باعث بنے گا۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں عوام کی حقیقی نمائندہ حکومت کا ہر سطح پر خیر مقدم کیا جائے گا اور افغان امن کے لیے اپنا ذمہ دارانہ کردار جاری رکھے گا۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان کی سر زمین افغانستان میں جاری تنازع میں استعمال نہیں ہو رہی اور اس امید کا بھی اظہار کیا گیا کہ افغانستان کی سرزمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی جبکہ افغانستان کی سرحد پر باڑ کا کام 90 فیصد مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ کسٹمز اور بارڈر کنٹرول کا بھی موثر نظام تشکیل کیا جا رہا ہے۔
پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے چیئرمین اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے طویل اجلاس کے بعد شریک اراکین قومی، اسمبلی، سینیٹرز، عسکری قیادت اور دیگر کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔



