
کمشنر نصیرآباد ڈویژن معین الرحمن خان اور ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہانزیب خان کی زیر صدارت کمشنر آفس میں اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر نصیرآباد منیر احمد خان کاکڑ ڈپٹی کمشنر جعفرآباد خالد خان ڈپٹی کمشنر استامحمد رزاق خان خجک ڈپٹی کمشنر صحبت پور فریدہ ترین ڈائریکٹر نوید احمد ایس ای ایریگیشن غلام سرور بنگلزئی سمیت دیگر ضلع نصیرآباد کے آفیسران موجود تھے اجلاس کے موقع پر نصیر آباد ڈویژن میں متوقع مون سون بارشوں کے پیش نظر کئے گئے اقدامات کے حوالے سے تمام ڈپٹی کمشنرز نے بریفنگ دی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر نصیر آباد ڈویژن معین الرحمن خان اور ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان نے کہاکہ مون سون بارشوں کے سلسلے میں بلوچستان حکومت پیشگی اقدامات کررہی ہے اس لیے ضروری ہے کہ تمام محکموں کے سربراہان اپنی خدمات بہتر معنوں میں سرانجام دیں تاکہ مشکل حالات میں لوگوں کے جان و مال کو محفوظ بنایا جاسکے بارشوں کے دوران اربن فلڈ سے محفوظ رکھنے کے لیے پمپنگ اسٹیشنز سمیت نکاس آب کے نالوں کی صفائی ستھرائی کے عمل کو یقینی بنایا جائے اگر خدانخواخستہ سیلابی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے تو لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے خیمہ بستیوں کے لیے ضلع انتظامیہ ابھی سے مقامات کی نشاندہی کریں تاکہ لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے آبنوشی کے لیے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے تمام تالابوں کو ابھی سے بھر لیا جائے تاکہ کٹھن حالات میں آبنوشی کی فراہمی میں کوئی مشکلات درپیش نہ آئیں اس کے ساتھ ساتھ لائیو سٹاک محکمہ بھی ابھی سے الرٹ رہے جانوروں کے لیے چارے کے بندوبست کے لیے فوری اقدامات کرے جبکہ سیلابی صورتحال کے وقت متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے متبادل راستے کے حوالے سے بھی اقدامات کیے جائیں ہمیں مفاد میں میں زیادہ سے زیادہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ادویات کی دستیابی اور ڈاکٹرز پیرامیڈیکل اسٹاف کی جائے تعیناتی کو یقینی بنایا جائے ادویات اور ویکسین کی موجودگی سے ہی لوگوں کو طبی سہولیات فراہمی میں مشکلات سے نجات مل سکے گی اس موقع پر ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان نے کہاکہ حکومتی احکامات پر تمام اضلاع میں کٹھن حالات سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری سامان اور اشیاء خوردونوش کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے اس حوالے سے اگر مزید کسی چیز کی ضرورت پڑے تو اس حوالے سے بھی ہمیں تحریری طور پر ابھی سے آگاہی فراہم کی جائے تاکہ بروقت رسائی کو ممکن بنایا جاسکے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان کی جانب سے سخت ہدایات دی گئی ہیں جن پر ہر صورت یقینی بنایا جائے گا پی ڈی ایم اے کشتیوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اگر ضرورت پڑی تو ان سیلاب متاثرہ علاقوں جہاں پر راستے نہیں ہونگے تو ان علاقوں میں ڈرواؤن سے مدد کی جائے گی کسی بھی علاقے میں ڈپٹی کمشنر کی اجازت کے بغیر کوئی بھی این جی اوز کام نہیں کرے گی ڈپٹی کمشنر کی مشاورت انتہائی ضروری ہے کنٹیجنسی پلان کے تحت جس چیز کی ہم سے ڈیمانڈ کی گئی ہے انہیں ہم پورا کریں گے تمام ڈپٹی کمشنرز اپنی نگرانی میں کیمپس قائم کریں ہنگامی صورتحال کے موقع پر بین الاقوامی اداروں سے بھی مدد لی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ سیلابی صورتحال سے قبل تمام تمام کینالز اور ان کی ذیلی شاخوں کی پشتوں کو ابھی سے مضبوط کیا جائے



