بلوچستان

تفتان سرحد 8 روز سے بند، چمن بارڈر بھی (آج) سے بند کرنے کا فیصلہ

کوئٹہ (این این آئی) کورونا وائرس کے باعث سخت حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے حکومت پاکستان نے پاک افغان سرحد چمن کو (آج)پیر سے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزرات داخلہ کے مطابق چمن بارڈر افغانستان میں کورونا وائرس کے باعث بند کیا جا رہا ہے، جو دو مارچ سے ایک ہفتے کے لیے بند رہے گااس دوران آمدورفت کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں بھی معطل رہیں گی۔اس کے علاوہ پاک افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی اضلاع میں کورونا وائرس سے شہریوں کو بچانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں اور ڈی ایچ کیو ہسپتال پاراچنار میں آئسولیشن وارڈز قائم کردئیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ افغانستان کے وزیرِ صحت فیروزالدین فیروز نے رواں ہفتے صوبے ہرات میں 3 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی تھی جس کے بعد پاکستان نے حفاظتی انتظامات کیلئے مزید کمر کس لی تھی۔پاک افغان سرحد باب دوستی پر میڈیکل ٹیکنیشن ٹیم ریڈ کریسنٹ اور پی پی ایچ آئی کے تعاون سے لوگوں کی اسکریننگ کا عمل جاری رہا۔ادھر طورخم بارڈر پر بھی میڈیکل چیک پوائنٹ قائم کردیا گیا اور افغانستان سے آنے جانے والوں کی اسکریننگ کا سلسلہ جاری رہا ۔پاک افغان دوستی اسپتال طورخم میں آئسولیشن وارڈ قائم کیا گیا ہے جبکہ لنڈی کوتل اور جمرود اسپتالوں میں بھی آئسولیشن وارڈ قائم کیے گئے ہیں، طورخم میں عملے کو ایمبولینس بھی فراہم کی گئی ہیمحکمہ صحت اور نیشنل ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ کا عملہ تھرمل اسکینرز کے ذریعے بخار کے مریضوں کا معائنہ کر رہا ہے۔ ادھر  ایران میں بھی کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کے بعد پاک ایران سرحد تفتان پچھلے 8 روز سے بند ہے۔ ایران سے آئے مزید 510 پاکستانی تفتان میں قائم قرنطینہ سینٹر میں مقیم ہیں۔پاکستان ہاؤس میں زائرین کی تعداد 696 ہوگئی ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر تفتان کا کہنا ہے کہ پاک ایران سرحد بدستور بند ہے، سرحد کھولنے کا فیصلہ صوبائی و وفاقی حکومت کرے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button