میرے اور عدلیہ کے خلاف گھناؤنی مہم شروع کر دی گئی ہے،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ

0 43

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ میرے اور عدلیہ کے خلاف گھناؤنی مہم شروع کر دی گئی ہے،الزام لگایا گیا میں نے صحافیوں سے ملاقات کر کے پرویز مشرف کے خلاف فیصلے کی حمایت کی،بطور جج ہمیشہ اپنے حلف کی پاسداری کی اور بغیر خوف کے فیصلے کیے،ہمیشہ وہی کیا جو درست سمجھا ،سچ سامنے آئے گا اور سچ کا بول بالا ہو گا،ایک جج کو بے خوف و خطر ہونا چاہیے، جج کا دل شیر کی طرح اور اعصاب فولاد کی طرح ہونے چاہئیں،اگر کسی فیصلے میں مجھ سے ناانصافی ہوئی تو معذرت خواہ ہوں ، میرا ضمیر مطمئن ہے ۔ جمعہ کوچیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کاآغاز سورۃ النحل سے کیا۔چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں فیض احمد فیض کی نظم کا تذکرہ بھی کیا ۔چیف جسٹس نے کہاکہ کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے، وہ تم کو خوف بھی لائیں گے، میرے نزدیک ایک جج کو بے خوف و خطر ہونا چاہیے۔چیف جسٹس نے کہاکہ بطور جج ہمیشہ اپنے حلف کی پاسداری کی۔ انہوںنے کہاکہ قانونی تقاضوں سمیت بغیر خوف اور جانبداری سے فیصلے کئے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اپنے 22 سالہ کئیرئیر کے دوران مختلف قانونی معاملات کا ہر پہلو سے جائزہ لیا،بطور چیف جسٹس گیارہ ماہ تین سو سنتیس دن زمہ داری نبھائی۔ انہوںنے کہاکہ ہفتہ وار اور دیگر چھٹیوں کو نکال کر دو سو پینتیس دن کام کیلئے ملے،اس عرصے کے دروان عدالتی شعبے میں اصلاحات کیلئے اہم اقدامات کئے۔چیف جسٹس نے کہاکہ ایک جج کا دل شیر کی طرح اور اعصاب فولاد کی طرح ہونے چاہئیں، تم اپنی کرنی کر گزرو جو ہوگا دیکھا جائیگا۔چیف جسٹس نے کہاکہ اللہ گواہ ہے میں نے سچائی کے ساتھ اپنے حلف پر قائم رہنے کی مکمل کوشش کی، میں نے کبھی فیصلہ دینے میں تاخیر نہیں کی۔چیف جسٹس نے فیض احمد فیض کا شعر پڑھا توہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ میں ان سب سے معذرت خواہ ہوں جنہیں میرے فیصلوں کی وجہ سے ناچاہتے ہوئے تکلیف ہوئی،بے شک اللہ تعالی معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔انہوںنے کہاکہ میں نے ویڈیو لنک آغاز کیا، سپریم کورٹ میں ریسرچ سینٹر قائم کیا۔چیف جسٹس نے کہاکہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ اپڈیٹ کی گئی، میرے دور میں موبائل فون ایپلی کیشن بنائی گئی۔چیف جسٹس نے کہا کہ کوشش کی کہ خود کو ایک آئیڈیل کردار کا حامل جج بنائوں ۔دوران خطاب چیف جسٹس نے کہا کہ جب میں پیدا ہوا تو میرے منہ میں ایک دانت تھا، میرے خاندان میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ بچہ بہت خوش قسمت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ وہی کیا جسے میں درست سمجھتا تھا اور اسے کرنے کے قابل تھا، میرے لیے یہ اہم نہیں کہ دوسروں کا ردعمل یا نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ریفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ میں نے اپنا 100 فیصد دیا، ڈیوٹی کی پاداش سے باہر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی، کبھی آواز نہیں اٹھائی بلکہ اپنے قلم کے ذریعے بات کی اور کبھی بھی فیصلے کو غیرموزوں طور پر موخر نہیں کیا اور اپنی زندگی کے بہترین برسوں کو عوامی خدمت میں وقف کرنے کے بعد آج میرا ضمیر مطمئن ہے۔۔انہوںنے کہاکہ الزام لگایا گیا جنرل پرویز مشرف کے فیصلے کے خلاف میڈیا سے گفتگو میں مختصر فیصلے کی حمایت کی،پوری عدلیہ کے خلاف گھنائونی پر مبنی مہم شروع کی گئی ہے ،سچ کا بول بالا ہو گا۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ مجھے اور عدلیہ کو بدنام کرنے کی گھنائونی مہم شروع ہو چکی ہے،پرویزمشرف فیصلے کے بعد نہ صرف میرے خلاف بلکہ عدلیہ کے خلاف تضحیک آمیز مہم چلائی گئی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ایڈیشنل اٹارنی جنزل نے بھی میڈیا سے ملاقات میں مشرف کیس میں رائے پر بات کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا مشرف کیس پر میرے اثر انداز ہونے سے متعلق بات بے بنیاد اور تضحیک آمیز ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ مجھے اور عدلیہ کو بد نام کرنے کی گھناؤنی سازش ہے،سچ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ نامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ قانون کی حکمرانی اور آئین کا تحفظ، آزاد عدلیہ کے چیلنجز سے نمبرز آزما ہوتی آئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ماضی میں بھی عدلیہ نے ان چیلنجز سے نمٹا ، آئین پاکستان ایک زندہ جاوید دستاویز ہے ۔ انہوںنے کہاکہ عوام کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.