آواران سے خواتین کی اغواء نما گرفتاری اور دہشتگردی کے الزامات لگاکر انہیں منظر عام پر لانا گھنائوناعمل ہے،نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی

0 29

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ آواران سے خواتین کی اغواء نما گرفتاری اور دہشتگردی کے الزامات لگاکر انہیں منظر عام پر لانا گھنائوناعمل ہے ریاست اپنے عمل سے نفرتوں میں کمی کی بجائے ان میںاضافہ کررہی ہے جو یقینا ملکی استحکام کیلئے نیک شگون نہیں ہے۔صوبے کے غیرت مند فرزند آواران میںلاچار خواتین کی گرفتاریوں کیخلاف آج ہونے والے احتجاجی مظاہرئوں میں بھر پور شرکت کرکے اپنی مائوں اور بہنوں کی آواز بنیں ،جمعہ کے روز سراوان ہائوس کوئٹہ میں مختلف وفود سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے نوابزادہ لشکری رئیسانی نے مزید کہا کہ سالوں سے دہشتگردی کے الزامات کے تحت بلوچ نوجوانوں، بزرگوں اور کمسن بچوں کو سالوں سے تو لاپتہ رکھا گیا ہے اوراب انہی الزامات کے تحت باپردہ سماج کی خواتین کو لاپتہ کرکے اسلحہ و بارود کیساتھ تصویر کھینچ کر ان پر سہولت کاری کے الزامات لگاکرانہیں منظر عام پر لایا جارہا ہے ریاست کے اس عمل سے تمام مظلوم و محکوم اقوام نفرت کا اظہار کرتی ہیں۔ نوابزادہ لشکری رئیسانی نے مزید کہا ہے کہ باپردہ سماج کی خواتین کی اسلحہ و بارود کیساتھ تصویر کھینچ کر ان پر سہولت کاری کے الزامات لگاکر منظر عام پرلاکر ہمیں یہ دکھایا گیا کہ اس سرزمین کے لوگ اتنے کمزور ہیں کہ ان کی خواتین کو بغیر پردہ کے پیش کیا جائے ریاست کا یہ عمل کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ انہوںنے کہا کہ بلوچ قوم اپنے ننگ وناموس عزت کا تحفظ کرنا جانتی ہے اور بلوچ قومی جدوجہد نے ہماری خواتین کے حوصلوں کو اس قدر مضبوط کیا ہے کہ ایسے جھوٹے مقدمات کا اندراج ان کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ باعث فخر ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست اپنے عمل سے نفرتوں میں کمی کی بجائے ان میںاضافہ کررہی ہے جو یقینا ملکی استحکام کیلئے نیک شگون نہیں ہے۔انہوں نے بلوچستان بھر کے عوام بالخصوص کوئٹہ کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ آواران سے خواتین کی اغواء نما گرفتاری اور دہشتگردی کے الزامات لگاکر انہیں منظر عام پر لانے کے گھنائونے عمل کیخلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرئوں میں بھر پور شرکت کرکے اپنی مظلوم محکوم ،لاچار اور بے گناہ مائوں اور بہنوں کی آواز بنیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.