پوتن کی یوکرین کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی فریب نہیں: یورپی پونین

0 31

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے کہا ہے کہ یورپی یونین کو ولادیمیر پوتن کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے جو انھوں نے کہا کہ وہ یوکرین کے تنازع میں جوہری ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔

جوزپ بوریل نے بی بی سی کے لائز ڈوسیٹ کو بتایا کہ جنگ ایک ’خطرناک لمحے‘ تک پہنچ گئی ہے۔

ان کے یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب روس نے جزوی طور پر متحرک ہونا شروع کر دیا ہے اور یوکرین کے چار علاقوں کے الحاق کی طرف بڑھ رہا ہے۔

صدر پوتن کو میدان جنگ میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، ان کی افواج کو یوکرین کے جوابی حملے میں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یقینی طور پر یہ ایک خطرناک لمحہ ہے کیونکہ روسی فوج کو ایک کونے میں دھکیل دیا گیا ہے، اور پوتن کا ردعمل۔۔۔ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی۔۔۔یہ بہت بُرا ہے۔‘

یوکرین پر روس کے حملے کے سات ماہ بعد تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ صدر پوتن کی افواج بیک فٹ پر ہیں لیکن انھوں نے کہا کہ ایک ’سفارتی‘ حل تک پہنچنا چاہیے، جو ’یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا ضامن ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ دوسری صورت میں، ہم جنگ ختم کر سکتے ہیں، لیکن ہمارے پاس امن نہیں ہوگا اور ہم ایک اور جنگ کریں گے۔

اس ہفتے کے شروع میں قوم سے ایک غیر معمولی خطاب میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ان کے ملک کے پاس ’مختلف تباہ ہتھیار‘ ہیں اور ’ہم تمام دستیاب ذرائع استعمال کریں گے‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’میں بھڑک نہیں ما رہا ہوں۔‘

Leave A Reply

Your email address will not be published.