اقوام کے حقوق،سائل وسائل اور زبان وثقافت کو برابری کی بنیاد پر تسلیم کرنا ہوگا : نواب رئیسانی
ڈھاڈر : چیف آف سراوان سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم خان رئیسانی اور ان کے صاحبزادے نوابزادہ پیرہ میر رئیس رئیسانی قدیم تاریخی علاقے مہر گڑھ پہنچ گئے جہاں پر انہوں نے مصروف دن گزرا نواب رئیسانی کی آمد کی خبر سنتے ہی علاقے کے معتبرین قبائلی عمائدین سادات کرام صحافیوں اور نوجوان طلبا کی بڑی تعداد نےوہاں آکر ان سے ملاقات کی اور ان کی آبائی علاقے آمد پر انتہائی مسرت کا اظہار کیا اس موقع پر مقامی صحافیوں سے نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ملکی اور علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا ان کا کہنا تھا کہ ضلع کچھی بلخوص ڈھاڈر کے عوام کے ساتھ ہمارا قدیم احترام کا رشتہ ہے یہاں کے عوام نے ہمیشہ ظلم کے خلاف اور سچائی کا ساتھ دیا ہے انہوں نے ملکی صورتحال پر بات چیت میں کہا کہ سیاست کرنا سیاستدانوں اور نظریاتی جماعتوں کی زمہ داری ہوتی ہے جو انھیں جماعتی اور خاندانی طور پر وارثہ میں ملتی ہے ہم نے ہمیشہ ایک منظم ومتحد فیڈریشن کی بات کی ہے اور آج بھی اپنے اس اصولی موقف پر قائم ہیں کیونکے ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ملک کی مظبوطی سلامیت کے لیے بے حد ضروری ہے کہ یہاں کی تمام قومی وحدتوں اور صدیوں سے آباد اقوام کے تاریخی حقوق اور انکے سائل وسائل کے ساتھ ساتھ انکے زبان ثقافت کو تسلیم کرکے برابری کی بنیاد پر دیکھنا اور سمجھنا ہوگا جس کے لیے ضروری ہے کہ یہاں عوامی رائے دہی کے حق کو مان کر عوامی بالادستی کے لیئے راہموار کرنی چاہیے اس لیئے مولانافضل الرحمن سول سپر میسی کی بات کرتے ہیں انکی اس بات میں وزن ہے اور مولانا فضل الرحمن ایک مودبرانہ سیاست دان اور دانشمندانہ سوچ کے حامل شخصیت ہیں سب سیاستدانوں سے متعلق وزیراعظم عمران خان کی تقریر نامناسب اور غیر سنجیدہ ہے کیونکے ایسی صورتحال میں تمام سیاست دانوں کو مثبت انداز اپنانا ہوگا ۔