
کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل کی زیر صدارت دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔ پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے اصغر علی ترین نے کہا کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ خونی شاہراہ بن چکی ہے جہاں آئے روز خوفناک ٹریفک حادثات معمول بن چکے ہیں سید فریداللہ گزشتہ روز اپنی فیملی کے ہمراہ کراچی جارہے تھے اور خوفناک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں فریداللہ سمیت چار افراد شہید ہوگئے ایک ہی گھر سے چار جنازوں کا اٹھنا بہت بڑا غم ہے اس شاہراہ پر آئے روزحادثات ہوتے ہیں پچھلے دنوں چیئر مین سینٹ کے بھائی بھی اسی شاہراہ پر ٹریفک حادثے میں شہید ہوگئے تھے یہ صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے۔ اس موقع پر ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ اس شاہراہ کی فزیبلٹی ہوچکی ہے جلد ہی کام بھی شروع ہوجائے گا جس پر اصغر علی ترین کا کہنا تھا کہ یہ باتیں ہم عرصہ دراز سے سن رہے ہیں کہ فزیبلٹی ہوگئی لیکن عملاً کوئی کام نہیں ہورہا ہم کوئی اورنج لائن یا موٹروے کی ڈیمانڈ نہیں کررہے صرف یہ کہتے ہیں کہ اس خونی شاہراہ کو دو رویہ بنایا جائے۔ پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے کہا کہ صوبے میں ایک دو رویہ شاہراہ نہیں ہے سی پیک کے تحت صوبے میں کہیں منصوبے شروع نہیں کئے گئے سوا ئے گوادر کے جہاں دو تین منصوبوں پرکام ہوا ہے انہوں نے کہا کہ دو سال کے دوران بلوچستان میں 9ہزار لوگ ٹریفک حادثات میں شہید ہوئے ہیں انہوں نے اپنے حلقے میں گیس پریشر میں کمی کی جانب ایوان کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ ان کے حلقے میں گیس پریشر نہ ہونے کے برابر ہے صوبے کے لوگ گیس کو ضروریات زندگی پوری کرنے کے لئے نہیں بلکہ اپنی زندگیاں بچانے کے لئے استعمال کرتے ہیں زیارت میں جونیپر کے 70فیصد درخت کاٹ دئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ سیب کی درآمد سے بلوچستان کے زمینداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے اس پر پابندی عائد کی جائے۔




