
اسلام آباد : کسی کو پاکستان کے نظریے، آئین اور جمہوریت سے کھیلنے نہیں دیں گے،آزادی مارچ: ہم نے حکمرانوں کا غرور خاک میں ملا دیا،اسلام آباد اس لیے ہدف ہے کہ یہ دار الحکومت ہے،این آر او کو بدنام کر دیا گیا ہے،فیس سیونگ ہمیں نہیں انہیں چاہیے،ہم نے ان حکمرانوں کو غرور خاک میں ملا دیا ہے، ہم ان حکمرانوں کو تسلیم نہیں کرتے، یہ کرسی پر بیٹھے رہیں لیکن عوام انہیں حکمران نہیں مانتی،دھرنے سے ہماری جماعت کے نظریاتی اہداف کو تحفظ مل گیا ، میں اور میرے کارکن ایک دوسرے سے راضی ہیں، تحریک کی کوئی حد نہیں ہوتی، منزل مقاصد کا حصول ہوتا ہے۔گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج غرور کا پہاڑ ریت کا صحرا بن گیا ہے، سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ فاٹا کے حوالے سے عوام کو سبز باغ دکھائے گئے، کہا گیا کہ ہم فاٹا کو ہر سال 100 ارب روپیہ دیں گے اور 10 سال تک مسلسل دیتے رہیں گے، لیکن آج تک ایک پیسہ نہیں دیا۔حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نااہلی کا یہ عالم ہے کہ اقبال کے حوالے سے 9 نومبر کو محسوس ہی نہیں ہونے دیا گیا، اس طرح پاکستان نہیں چلا کرتا، پاکستان کی شناخت اس کا نظریہ، آئین اور جمہوریت ہے، کسی کو پاکستان کے نظریے، آئین اور جمہوریت سے کھیلنے نہیں دیں گے۔سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ ایک سال میں چینی، چاول اور آٹا کئی گنا مہنگا ہو گیا، 60 سے 70 فیصد ہماری برآمدات کا دار و مدار زراعت پر ہے لیکن حکومت کی زرعی پالیسی میں کپاس کا ذکر ہی نہیں، ہمارا اسٹیٹ بینک بھی خسارے میں جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک منظور نظر، نااہل شخصیت کی ملوں میں 40 فیصد چینی ذخیرہ کی گئی، کیا اس کے لیے پاکستان حاصل کیا گیا تھا اور قربانیاں اسی لیے دی گئی تھیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمیں کہتے ہیں کہ عدالت کے فیصلے کو سامنے رکھتے ہوئے جلسہ کریں، ہم نے کہا تم نے کتنی عدالتوں کے فیصلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دھرنے کیے۔ دوسری طرف نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ ہر پارٹی نے انتخابی دھاندلی کا مشاہدہ کیا، دھاندلی کی تحقیقات کے لیے سربراہ بھی حکومتی رکن کو بنایا گیا، ایک سال ہو گیا لیکن تحقیقاتی کمیٹی کے قواعد و ضوابط بھی نہیں بنائے گئے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اس لیے ہدف ہے کہ یہ دار الحکومت ہے، یہ دھرنا نہیں آزادی مارچ ہے اور ہمارے مارچ کے پیچھے دنیاوی طاقت ہمارے کارکن ہیں، دھرنے سے ہماری جماعت کے نظریاتی اہداف کو تحفظ مل گیا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میں اور میرے کارکن ایک دوسرے سے راضی ہیں، تحریک کی کوئی حد نہیں ہوتی، منزل مقاصد کا حصول ہوتا ہے اور کارکنوں نے کہا کہ وہ بیٹھے ہیں اور بیٹھے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور بلاول نے مارچ نومبر تک ملتوی کرنے کامشورہ دیا تھا، ہم نے کہا کہ سردیاں بڑھ جائیں گی پھر آنہیں سکیں گے۔این آر او سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ این آر او کو بدنام کر دیا گیا ہے، اس کا مقصد ملک کو جمہوریت کی طرف لے جانا ہے، دونوں بڑی پارٹیاں چارٹر کے ذریعے ملکی سیاست میں واپس آئی تھیں۔سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ ہم سے بیک ڈور سے بھی لوگ مل رہے ہیں لیکن کوئی غیر ملکی سفارتخانہ بیچ میں نہیں ہے۔کشمیر سے متعلق بھارتی اقدامات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کی ناکام سفارت کاری کی وجہ سے کشمیر پر یہ دن دیکھنا پڑا، جب تک ہم تھے حالات کنٹرول رکھے کہ بھارت ایسا اقدام نہ کر سکے، عمران خان نے کہا تھا مودی کی حکومت آئے گی تو مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا۔فیس سیونگ سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمیں محفوظ راستے کی ضرورت نہیں، ضرورت ان کو ہے۔حکومتی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ استعفے سے کم نہیں تو اس کے برابر کی صورت سامنے آئے، عمران خان کا استعفی لینے کے لیے حکمت عملی تبدیل ہو سکتی ہے۔دھرنے سے دیگر سیاسی جماعتوں کو فائدہ پہنچنے سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ان کے دبا سے حلیف جماعتوں کو فائدہ ملتا ہے تو خوشی ہو گی۔




