فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئے : مفتی منیب
رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملکی مفاد اور امن و استحکام کی خاطر حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان کردار ادا کرنے کی پیشکش قبول کی تھی۔
مفتی منیب الرحمان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات سے قبل حکومتی وزرا دھمکیاں دے رہے تھے کہ طاقت کا استعمال کیا جائے گا اور ان کا خاتمہ کر دیں گے۔‘
76 سالہ مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا وہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری، وزیر داخلہ شیخ رشید اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ساتھ کسی صورت بیٹھنے کو تیار نہیں تھے۔
’جنہوں نے معاملات بگاڑے، وعدوں سے انحراف کیا، ان کا کوئی اعتبار نہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’میں نے آرمی چیف سے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ جب لال مسجد کا آپریشن ہو رہا تھا تو رات 12 بجے تک تمام لبرلز حکومت کو ملامت کر رہے تھے کہ حکومت کی رٹ کہاں ہے، حکومت طاقت کیوں استعمال نہیں کر رہی مگر جب آپریشن ہوا تو صبح یہی سب حکومت کی مخالف صف میں کھڑے تھے۔‘
فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجنے کے مطالبے کے حوالے سے مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ ’ہم اس مطالبے سے دستبردار نہیں ہو رہے بلکہ میڈیا اس حوالے سے ہماری باتوں کی غلط تشریح کر رہا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجنے کا معاہدہ حکومت کی جانب سے کیا گیا تھا جس کی پاسداری نہ کرنے کی وجہ سے ایک بار پھر تصادم ہوا۔