وزیراعظم عمران خان کا 120 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان

0 27

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے 120 ارب کے ریلیف پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حکومت پاکستان کی تاریخ کا سب بڑا ’فلاحی پروگرام‘ ہوگا جو ملک کے فلاحی ریاست بننے کی جانب ایک قدم ہے۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر 120 ارب روپے کا ریلیف پیکج دے رہی ہیں، جس میں آٹے، دالوں اور گھی پر 30 فیصد سبسڈی دی جائے گی۔ عمران خان نے کہا کہ یہ سبسڈی آئندہ چھ ماہ تک ہوگی۔

بدھ کی شام قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے خبردار کیا کہ ملک میں پیٹرول کی قیمتیں مزید بڑھانی پڑیں گی۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران نے کہا ہے کہ تین سے چار ماہ کے دوران تیل کی قیمتوں میں 100 فیصد اضافہ ہوا لیکن پاکستان میں تیل کی قیمت میں 33 فیصد اضافہ ہوا۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر 120 ارب روپے کا ریلیف پیکج دے رہی ہے، جس میں آٹے، دالوں اور گھی پر 30 فیصد سبسڈی دی جائے گی۔ عمران خان نے کہا کہ یہ سبسڈی آئندہ چھ ماہ تک ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ ’انڈیا میں تیل کی قیمت 250 روپے، بنگلہ دیش میں 200 روپے اور پاکستان میں 138 روپے ہے۔ ابھی سے بتا رہا ہوں کہ ملک میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھانی پڑیں گی۔‘

عمران خان نے مزید کہا کہ ’امریکہ میں گیس کی قیمت میں 116 فیصد اور یورپ میں 300 فیصد اضافہ ہوا‘ لیکن پاکستان میں گیس کی قیمت میں اضافہ نہیں ہو رہا۔

انھوں نے مہنگائی کے حوالے سے میڈیا کی کوریج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کا کام تنقید کرنا ہے لیکن اس حوالے سے متوازن رپورٹنگ کی ضرورت ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ’ملک میں مہنگائی کا مسئلہ ہے اور واقعی مسئلہ ہے۔ میڈیا کا کام تنقید کرنا ہے لیکن میڈیا تھوڑا بیلنس کرے کہ کیا مہنگائی ہماری وجہ سے بڑھی یا دنیا بھر میں مہنگائی ہوئی ہے۔‘

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کے تناظر میإ ملک میں پیٹرول کی قیمت بڑھانے پڑے گی۔ 

قوم سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ آج ہم پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے فلاحی پروگرام کا افتتاح کررہے ہیں، ہمیں اس ملک کو فلاحی ریاست کی طرف لے کر جانا ہے، احساس  پروگرام کی ٹیم نے 3سا ل میں ڈیٹا اکٹھا کیا،   ڈیٹا کے بغیر سبسڈی دینا آسان نہیں ، ہمیں جب حکومت ملی تھی تب معاشی حالات بہت خراب تھے، ہمیں بیرون ممالک سے لیا گیا قرض واپس دینا تھا لیکن ہمارے پاس پیسے نہیں تھے، سعودی عرب، یو اے ای او چین کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہماری مدد کی ورنہ ہم دیوالیہ ہوجاتے، اس کے باوجود ہمیں آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے میں ایک سال  لگا اور اس کے بعد کورونا آگیا،  اس سے پاکستان  ہی نہیں پوری دنیا متاثر ہوئی، بھارت میں کرفیو لگا تو ہم پر کافی دباؤ تھا کہ آپ کیوں نہیں لاک ڈاون لگاتے، ہمیں خوف تھا کہ کورونا  کیسز بڑھے تو حالات خراب ہوجائیں گے، پاکستان نے بہتر طریقے سے کورونا کا مقابلہ کیا، کورونا کا بہتر طریقے سے سامنا کرنے پر  دنیا نے ہماری تعریف کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے کورونا کی وبا کے دوران اپنی زراعت کے شعبے کو بچایا، جس کے نتیجے میں چاول کی پیداوار میں  13.4فیصد اضافہ ہوا، اسی طرح گندم اور  مکئی کی پیدوار میں بھی اضافہ ہوا ہے، کپاس کی پیدوار میں بھی 81 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

مہنگائی کے مسئلے پر وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں مہنگائی کا مسئلہ ہے، میڈیا کا کام تنقید کرنا ہے اس سے معاشرے کا فائدہ ہوتا ہے، میڈیا کو کہتا ہوں کہ وہ دنیا کے مقابلے میں پاکستان میں مہنگائی کتنی بڑھی، عالمی سطح  پر ضروری اشیا کی قیمتوں میں 50 اور پاکستان میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے، تیل مہنگا ہوتا ہے تو ساری چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں، پچھلے تین چار ماہ میں تیل کی قیمت 100 فیصد بڑھ گئی ہے،بھارت میں 250 روپے اور بنگلا دیش 200 روپے جب کہ پاکستان میں 138روپے لیٹر ہے، ہمارا خسارہ بڑھتا جارہا ہے، ہمیں پٹرول کی قیمت بڑھانا پڑے گی۔ کورونا کے بعد قیمتیں نیچے آنے لگیں گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 2 کروڑ خاندانوں کے لئے گھی ،آٹا اور دال کی قیمتوں پر 30 فیصد رعایت ملے گی، اس سے ملک کے 13 کروڑ عوام کو فائدہ ہوگا۔ 40لاکھ خاندانوں کے لئے سود کے بغیر  قرضوں کا پروگرام لارہے ہیں، کسانوں کو سود کے بغیر 5لاکھ روپے تک کا قرضہ ملے گا۔ میری دو خاندانوں سے درخواست ہے کہ وہ ملک سے لوٹا ہوا پیسہ واپس لائیں میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں آدھی کردوں گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.