جن کو کوئی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا تھا آج وہ جیل میں ہیں، چیئرمین نیب

0 31

سکھر:  چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ جن کی جانب کوئی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا تھا آج وہ جیل میں ہیں، اگر کسی کے پیچھے ہمالیہ بھی کھڑا ہے تو میرے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہیں، اگر کیس بنتا ہوگا تومیں ضرور کیس بناوں گا، ہمارا کام کسی حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنا نہیں ہے، حکومت اور ریاست الگ الگ چیز ہیں، میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا اور لوٹی گئی رقوم کی واپسی اولین ترجیح ہے، نیب کے کلرک سے لے کر افسر تک کسی اہلکار کا کسی جماعت کیساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، ہونا تویہ چاہیے کہ ہمارے آئی اوز عدالتوں کو گائڈ لائن فراہم کریں۔جمعرات کو چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے سکھر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیب کرپشن ریفرنسز کے جلد فیصلوں کیلئے کوشاں ہے، نیب نے خود کو آزاد اور خود مختار ادارہ ثابت کیا ہے جبکہ نیب نے دو سال میں 600سے زائد ریفرنسز فائل کئے ہیں، انہوں نے کہا کہ بد عنوانعناصر سے بر آمدرقوم کی واپسی اولین ترجیح ہے جبکہ لوٹے گئے 71ارب روپے برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کرانے گئے ہیں، جب سے چیئرمین نیب بنا ہوں اور دو سال می ثابت کیا ہے کہ نیب ایک آزد ادارہ ہے، چیئرمین نیب نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں کو دہرایا نہیں جائے، جبکہ یہ منفی تاثر ہے کہ نیب کا احتساب نہیں ہو رہا ہے، انہوں نے تفتیشی افسروں سے کہا کہ مقدمات کے جلد فیصلوں کیلئے کوشاں ہیں جبکہ ججز کی تعداد کم ہونے کے باعث فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے، نیب وائٹ کالر کرائم کو ڈیل کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری مالی حالت کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے جبکہ نیب کے اہلکاروں میں بدنیت اہلکاروں کی گنجائش نہیں ہے، چیئرمین نیب نے کہا کہ چند تفتیشی افسر ایسے ہیں جن کو تفتیش کی اے جی سی کا بھی نہیں پتا ہے، کیس میں کبھی خوف سے کام نہیں ہوتا، میں نے کبھی بھی فیس نے نہیں دیکھا ہمیشہ کیس کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے تفتیشی افسرا کی مالی حالات بہتر ہوئے ہیں انہیں کارکردگی بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے، نیب نے بہت سے وزراء اور سابق وزراء اعلیٰ کے خلاف بھی کیس کا حکم دیا لیکن اگر کسی کے پیچھے ہالیہ بھی کھڑا ہے تو میرے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے جبکہ حکومت اور ریاست الگ الگ چیزیں ہیں، اگر کسی پر بھی کیس بنتا ہو گا میں ضرور کیس بنائوں گا جبکہ کسی کو گرفتار کرتے ہیں تو نیب کا احتساب پہلے دن سے شروع ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چسکھر ریجن میں کچھ افسران کی جانب سے بے ایمانی کی شکایات ملی ہیں، نیب اہلکاروں کی صحت تو اچھی ہے لیکن تفتیش میں بھی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمزور تفتیش سے عدالتوں میں کیس میں تاخیر برداشت نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہائیکورٹ موجود ہیں، عدالتیں موجود ہیں اور قدم قدم پر نیب کا احتساب ہوتا ہے، لیکن نیب احتساب سب کیلئے پر یقین رکھتا ہے اور کرپشن کیسز میں نیب افسران کی غفلت برداشت نہیں کی جا سکتی، میں کسی دھمکی ، لالج اور دبائو میں نہیں آتا،صرف کیس ریزٹ کو دیکھتا ہوں،میں نیب تفتیشی افسران کی تمام رپورٹس خود دیکھتا ہوں جبکہ کسی تفتیشی افسر کی وجہ سے نیب کی ساکھ پرحرف نہیں آنا چاہیے، نیب افسران سیاسی و ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد میں کام کریں جبکہ کسی بھی سائل سے بدتمیزی یا اس کی عزت نفس کو مجروح کرنا ہرگز برداشت نہیں کروں گا۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب میں روایتی پولیس کلچر کی کوئی گنجائش نہیں ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.