امریکا اور اتحادی متفقہ افغان حکومت کو بھی تسلیم نہیں کرینگے : حکمت یار

0 32

کابل :  افغانستان کے سابق وزیراعظم اور حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے کہا ہے کہ متفقہ حکومت بنالیں تو بھی امریکا اور اتحادی قبول نہیں کریں گے ، 31 اگست کے بعد حکومت کے قیام کے لیے مشاورت ہو گی۔ کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں طالبان کی حکومت چلے ، جس کے لیے ہمارا مشورہ ہے کہ افغان عوام مل کر نئی حکومت کے لیے اتفاق قائم کریں ، اسی مقصد کے لیے کونسل بنائی گئی تھی جو طالبان سے نئی حکومت کے قیام پر بات کرے گی ، کونسل نے طالبان کو ایک عبوری حکومت کے قیام کا مشورہ دیا اور اسی مشورے کے تحت اب اداروں کے عبوری سربراہ بنائے جا رہے ہیں، چین افغانستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا تھا لیکن امریکا نے اسے ایسا نہیں کرنے دیا۔ گلبدین حکمت یار نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں ایسی حکومت ہونی چاہیے جو بین الاقوامی برادری کو منظور ہو۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی لوگ افغانستان میں اپنی مرضی کی حکومت لانا چاہتے ہیں اور اس لیے وہ طالبان پر پابندیاں لگانے کی دھمکی دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ انکی حکومت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ یہ ایسا اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ ‘اپنے لوگوں’کو حکومت میں لانا چاہتے ہیں لیکن ہماری خواہش ہے کہ افغان عوام خود اپنی تقدیر کا فیصلہ کرے ۔حکمت یار نے کہا کہ ان کی جماعت طالبان کی حمایت کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ دیگر ممالک افغانستان پر پابندیاں عائد نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے شرعی لباس جائز ہے ، طالبان خواتین کو شرعی لباس میں دفاتر میں کام کرنے کی اجازت دیں ، مغرب کو ہمارے ملک میں خواتین کے لباس پر ہمیں ڈکٹیٹ کرنے کا اختیار نہیں ہے ،انکا کہنا تھا داعش بھی ایک مسئلہ تو ہے مگر اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے ، داعش کسی مسئلے کی بنیاد بھی ہو سکتا ہے تاہم افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہو گیا تو داعش کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔ گلبدین حکمت یار نے کہا کہ پنج شیرایشو پر چند امریکی قانون ساز اُن جنگجوؤں کی حمایت کر رہے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاید امریکا ابھی بھی افغانستان سے جانا نہیں چاہتا اور اسکی خواہش ہے کہ جنگ کو طوالت دے ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پنج شیر میں برناڈ نامی فرانسیسی یہودی آیا ہے ، یہ ماضی میں بھی احمد شاہ مسعود کے ساتھ رہا ہے ، اس شخص کے ساتھ 600 افراد کی انٹیلی جنس ٹیم بھی ہے ، اسکے علاوہ سوشل میڈیا پر ایک سابق بھارتی فوجی کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ کہہ رہا ہے کہ بھارت احمد مسعود کو پیسے دے اور سپورٹ کرے ، دہلی کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغان عوام کو یقین دلائے کہ کابل کے معاملات میں مداخلت نہیں کی جائے گی ، افغانستان میں امن بھارت سمیت سب کے فائدے میں ہے ، بھارت پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی طرح ماضی کی غلطیاں مانے اور عدم مداخلت کا اعلان کرے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.