بلوچستان 18ویں ترمیم کے فوائد سے محروم ہے، سردار اختر مینگل

0 36

کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات مل گئے مگر بلوچستان کے عوام اب بھی اپنے اختیارات سے محروم ہیں اٹھارویں ترمیم کے بعد بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو تبدیل کرنے کااختیار وزیراعلیٰ بلوچستان کی بجائے گورنر بلوچستان کے پاس ہے بلوچستان میں وائس چانسلر کو ہٹانا ایسا ہے جیسا کہ آزادی مارچ کے ذریعے وزیراعظم کو عہدے سے ہٹانے کے مترادف ہے۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی میں جو کچھ ہوا ہے اس کے ذمہ دار کون ہیں اور کیسے ہمارے قبائلی روایات کو پامال کیا گیا بلوچستان میں بمشکل والدین اپنی بچیوں کو اسکول سے کالج اور کالج سے یونیورسٹی تک پڑھانے کیلئے بھیجتے ہیں مگر جس طرح یونیورسٹی میں طالبات کو ہراساں جیسے واقعات رونما ہوئے تو اب و ہ والدین اپنے بچیوں کو پڑھانے سے قاصر ہونگے۔

18ویں ترمیم کے بعد یونیورسٹی کا وائس چانسلر گورنر کی بجائے وزیراعلیٰ ہوتا ہے اور چانسلر کو تبدیل کرنے کا اختیار بھی اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل ہے مگر بد قسمتی سے صوبائی خود مختاری ملنے کے باوجود وائس چانسلر کو تبدیل کرنے کے اختیار وفاق کے نمائندہ گورنر کے پاس ہے بلوچستان یونیورسٹی میں جو واقعہ ہوا ہے ہم وہ بیان ہیں نہیں کرسکتے طالبات کے کمروں اور باتھ روم میں خفیہ کیمرے لگائے گئیں اس کے ذمہ دار کون ہیں کیا وفاقی حکومت اسٹیبلشمنٹ اور صوبائی حکومت اس کی ذمہ داری لیں گے۔

بلوچستان میں ایک وائس چانسلر کو ہٹا نااس طرح ہے جیسے کے 27اکتوبر کو وزیر اعظم کو عہدے سے ہٹانے کیلئے آزادی مارچ ہورہا ہے ہم ایک چانسلر کو ہٹا نہیں سکتے تو کیا بلوچستان میں ہماری بچیوں کی عزتیں کی قیمتیں کم ہوگئی کہ ہمارے روایات کو پامال کیاجارہا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان دیگر صوبوں کی بہ نسبت الگ صوبہ ہے وہاں کے بلوچ وپشتون روایات ہوتے ہیں اور ہم اپنے روایات کی پاسداری ہر صورت میں کرینگے بلوچستان یونیورسٹی میں ہونے والے واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.