
سرینگر، جموں، نئی دہلی : مقبوضہ کشمیر میں ظالم اور قابض بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں مزید5نوجوانوں کو شہید کردیا جب کہ حملے میں 2بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوگئے ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض بھارتی فوج نے ضلع پلوامہ کے علاقے راج پورہ کے ہانجن گائوں میں نوجوانوں کو نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران نشانہ بنایا، قابض فوج نے اس دوران چادر اور چار دیواری کے تقدس کوبھی پامال کیا۔ کے ایم ایس کے مطابق قبل ازیں اسی علاقے میں ایک جھڑپ کے دوران 2 بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض فوج نے علاقے کی مکمل ناکہ بندی کرکے ہر قسم کی آمدورفت پر مکمل پابندی عائد کردی ۔ علاوہ ازیں بھارتی فوج کی بربریت کے خلاف علاقے میں شدید احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ، کٹھ پتلی انتظامیہ نے مظاہروں سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری طلب کرلی ہے جب کہ موبائل اور انٹرنیٹ سروس کو بھی معطل کردیا گیا ہے ۔ادھر جموں وکشمیر پولیس ترجمان نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ جھڑپ میں لشکر طیبہ کے پانچ نوجوان مارے گئے جبکہ بھارتی فوج کی 44 راشٹریہ رائفلز کے دو اہلکار بھی مار ے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں بھارتی اخبار کے مطابق بھارتی فوج نے جموں میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید الیکٹرانک اپوٹک گاڑیاں تعینات کر دی ہیں۔ پونچھ اور راجوری میں تعینات ان گاڑیوں میں جدید نظام نصب ہے جو ڈرون سرگرمیوں کو مانیٹر کر سکتا ہے ۔ ادھر برہان مظفر وانی کو انکی شہادت کی 5 ویں برسی کے موقع پر خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے سرینگر ،پلوامہ اوردیگر علاقوں میں پوسٹر چسپاں کئے گئے ہیں۔ محبوبہ مفتی کے خلاف ریاست بہار میں مقدمہ درج ہو گیا ہے ۔ ان پر پاکستان کے ساتھ بھارتی مذاکرات کی وکالت کا الزام ہے ۔ بہار میں مظفر پور کی عدالت نے محبوبہ مفتی کو 7 جولائی کو طلب کر لیا ہے ۔ادھربھارتی عدالت نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما جموں وکشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے ۔




