وزیراعلیٰ بلوچستان کا دکی میں بس /ٹرک اسٹینڈ کی تعمیر کے فنڈز میں خرد برد کرنے پر فوری انکوائری کرانے کا حکم
کو ئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم کی سفارش پر دکی میں 100 ملین روپے کی لاگت سے بس /ٹرک اسٹینڈ کی تعمیر کے فنڈز میں خرد برد کرنے پر مذکورہ اسکیم کے ایکیسین اور ٹھیکیدارکے خلاف بیڈا قوانین کے تحت فوری طور پر انکوائری کرانے کا حکم دیا ہے ۔وزیراعلی بلوچستان نے انکوائری مکمل ہونے کے بعدکیس کی مزید تحقیقات اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بھجوا نے اور کریمنل ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ سی ایم آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل ایم این اے سردار اسرار ترین کے ذریعے فیروز خان ترین کی دکی بس/ ٹرک اسٹینڈ کی تعمیر سے متعلق شکایات کے ازالے کیلئے وزیراعلی جام کمال خان نے انسپکشن ٹیم کو مذکورہ اسکیم کی تحقیقات کرنے اور رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کہ بورڈآف ریونیو بلوچستان نے ضلع دکی میں 36 ایکٹر سرکاری اراضی محکمہ ٹرانسپورٹ بلوچستان کو مفت فراہم کی۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسکیم کی کل لاگت 100ملین روپے تھی جس میں سے68.25ملین روپے بطور خرچ دکھایا گیا۔ تحقیقاتی ٹیم نے مذکورہ منصوبے کی سائٹ کا دورہ کیا اور جائزہ لینے پر پتہ چلا کہ اس منصوبہ پر نہ تو کوئی تعمیراتی کام ہوا تھا اور نہ ہی اسے مکمل کرنے کے کوئی شواہد ملے جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے اس منصوبے کے کام کومکمل قرار دیا گیا تھا۔منصوبے کیلئے کوئی پروجیکٹ ڈائریکٹر بھی تعینات نہیں کیا گیا جبکہ منصوبہ پر عملدرآمد کی ذمداری محکمہ مواصلات و تعمیرات کی ہے۔رپورٹ کے مطابق اسکیم کے کام کو مکمل ظاہر کرنا اور سرکاری فنڈ میں خرد برد کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ ایکیسین اور ٹھیکیدار پر عائد ہوتی ہے جس پر وزیراعلی نے رپورٹ میں کئی گئی سفارشات کے مطابق متعلقہ ایکیسین اور ٹھیکیدار کے خلاف فوری طور پر بیڈا رولز کے تحت کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔